ہمارے معاشرے میں عشق رسول کا معیار

پچھلے دنوں پاکستان میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں ایک بچے نے اپنا ہاتھ اس لئے کاٹ لیا کہ اس کو لگا کہ اس سے نبی پاک(ص) کی شان میں گستاخی ہو گئی ہے. اس واقعہ پر دو قسم کے رد عمل دیکھنے میں آ رہے ہیں. ایک وہ لوگ جو بچے کے عمل کو حب رسول کی مثال کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو اس عمل کو پیش کر کے اسلام کی سخت گیری اور غیر انسانیت پر تنقید کر رہے ہیں

جب کہ حقیقت میں دونوں ہی ردعمل اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے. اسلام اعتدال کا مذہب ہے. اسلام نے تو واضح کیا ہے کہ توبہ اور مغفرت کا دروازہ ہر انسان کے لئے اس کی موت تک کھلا ہوا ہے اور الله بھی کہتا ہے کہ انسان ایک قدم اس کی طرف بڑھاتا ہے تو وہ الله دس قدم اس کی طرف اتا ہے. اگر اس بچے سے دانستہ یا نا دانستہ ایک غلطی سرزد ہو گئی تھی تو اس بچے کو بتایا جانا چاہیے تھا کے اس کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور الله بہت رحیم اور کریم ہے. اور ہاتھ کاٹنے کا عمل کسی بھی صورت میں حب رسول کا آئینہ دار نہیں ہے. بلکہ اصل حب رسول تو الله کے نبی کی سنت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا ہے. جہاں ایک جانب اس وحشیانہ طرز کے خود ساختہ حب رسول کے طریقے کو سراہنے والے بڑی تعداد میں ملیں گے دوسری جانب اسی افسوسناک واقعہ کی آڑ لے کر لبرل فاشسٹ  دین کے خلاف محاظ کھول چکے ہیں.

بجائے اس کے کہ حکومت بچے کو نقص امن اور خوف کی دفعات کے تحت گرفتار کرتی اس نے عوامی ردعمل کے خوف سے مولوی کو گرفتار کر لیا. حالانکہ اس معاملے میں جتنا مولوی قصوروار ہے اتنا ہی ہمارا یہ معاشرہ بھی قصور وار ہے. جس میں فرضی شخصیات کے فرضی واقعات کو، مثلا اویس قرنی کے حب رسول میں اپنے تمام  دانت  توڑ لینے کو حب رسول کا اعلی ترین معیار بتایا جاتا ہے، وہاں اس نوعیت کے واقعات کا ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہونی چاہیے. مولانا جامی جیسے عظیم مفکر نے بھی یہ شعر کہہ دیا

در عشق تو دندان شکست است بہ الفت
تو جامہ رسا نید اویسِ قرنی را
ترجمہ: آپ کی محبت اور الفت میں میرا دانت ٹوٹ گیا
آپ کی محبت میں اپنے آپ کو اویس قرنی سمجھ رہا ہوں

اگر حب رسول کا یہی معیار تھا تو آپ(ص) کے ساتھ حضرت علی، حضرت عمار، حضرت سلمان، حضرت ابو بکر جیسے قریبی اور ہر مشکل میں ساتھ دینے والے ساتھیوں نے یہ طرز عمل اخر کیوں نہیں اختیار کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ اویس قرنی نامی کوئی شخصیت کا کوئی حقیقی وجود تھا ہی نہیں. دوسری صدی ہجری میں عراقیوں نے اپنے خاص مقاصد کے تحت اس شخصیت کے بت کو تراشا اور اس کا چرچہ کیا. امام مالک نے عراق میں مقیم یمنی الاصل قبیلہ کے لوگوں سے پوچھا بھی کہ اویس قرنی کون تھا تو اس قبیلہ والوں نے کہا کہ ہمارے درمیان ایسا کوئی فرد کبھی نہیں تھا. پروپیگنڈا کا کمال یہ ہے کہ ہمارے ہاں حدیث کی ایک بڑی کتاب میں بھی ان کا نام اور مناقب آ گئے ہیں

اگر کوئی ایسا محب رسول شخص اس وقت یمن میں ہوتا تو اسکو معلوم ہوتا کہ اس وقت مدینہ کی طرف ہجرت کرنا فرض تھا. حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابو ہریرہ خود یمنی تھے اور انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اویس نام تو عرب میں اس زمانے میں موجود ہی نہیں تھا. اسی لئے صحابہ کی کسی کتاب میں اویس نامی کوئی شخص موجود ہی نہیں ہے. اویس کے اصل معنی بھیڑیے کے ہیں. اور قرن پھاڑ کو بھی کہتے ہیں. گویا اویس قرنی کا مطلب ہوا پہاڑی بھیڑیا ہے. یہ اہل بابل (عراق) کے ایک دیوتا کا نام ہے. عراقیوں نے اپنے اس دیوتا کو ایک صحابی کا روپ دے کر اسلام میں داخل کر دیا اور اس سے منسوب سنّت گریز واقعات، جیسے دانت توڑ لینا، جماعت کی نماز نہ پڑھنا کو اسلام کے اعلی معیار کے طور پر پیش کیا

یہ تو صرف ایک فرضی شخصیت سے منسوب فرضی کہانیاں ہیں لیکن ہماری تاریخ ایسے بہت سے فرضی واقعات جو اصلی شخصیات سے منسوب ہیں اور جو سنت رسول اور اسلامی عقائد سے براہ راست متصادم ہیں، سے بھری پڑی ہے. ان واقعات نے اسلام کی روح اور عقائد کو مسخ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور غیروں کو اسلام پر طنز کرنے کا بے شمار موقع فراہم کیے ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s