پاکستانی دماغ جدید ترین سپر کمپیوٹر سے بھی تیز

جاوید چوھدری کے آج کے کالم ٤ مئی کا عنوان ہے یہ طارق فاطمی کے ساتھ زیادتی کا ایک اقتباس دیا گیا ہے

طارق فاطمی صبح پانچ بجے اٹھتے ہیں، جاگنگ اور واک کرتے ہیں اور ناشتہ کر کے سات بجے دفتر پہنچ جاتے ہیں، یہ اسٹاف کے انے سے پہلے دنیا کے تمام بڑے نیوز پپرز، پاکستان کے تمام اخبارات، نیوز سمریاں، پاکستانی سفارت خانوں کے پیغامات اور گزشتہ دن کی ساری فائلیں پڑھ لیتے ہیں، یہ دفتر کھلے سے پہلے دنیا کے تمام دارالحکومتوں میں اپنے سفیروں سے ٹیلی فون پر بات بھی کر چکے ہوتے ہیں اور یہ دن بھر کی تمام اہم ترین معلومات بھی یاد کر چکے ہوتے ہیں

٧ بجے سے آفس کھلنے تک انسان کے پاس ٢ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتے. اس میں اگر کسی نے امریکی اخبار پڑھا ہو تو اس کو معلوم ہو کہ وہاں کے ایک اخبار کے تمام ادارتی  مضامین پڑھنے کے لئے یہ وقت بہت کم ہے اور دنیا بھر کے تمام اخبارات کا مطالعہ کرنا ان ٢ گھنٹوں میں انسان کے بس کی بات نہیں، پھر اگر پاکستان کے ١٠ اہم اخباروں کو لیا جائے تو ان کا سرسری جائزہ لینے کے لئے بھی ٢ گھنٹے نا کافی ہیں. اس کے بعد نیوز سمریاں بنانا کوئی آسان کام نہیں، مزید یہ کہ اگر پاکستانی سفارت خانے تندہی سے کام کر رہے ہیں تو روزانہ کے تقریباً  ٢٠٠ پیغامات تو انے چاہیے، ہر سفارت خانے سے اوسط ١ پیغام روزانہ کا، ان ٢٠٠ پیغامات کو پڑھنے کے لئے کم از کم ٢٠٠ منٹ چاہیے جو ٣ گھنٹے سے زیادہ بنتے ہیں

پھر پاکستان کے تمام اہم سفارت خانوں کی تعداد اگر ٣٠ بھی لگائی جائے تو ایک سفارت خانے سے بات چیت کے لئے ٥ منٹ بہت قلیل ہیں لیکن ٥ منٹ ٣٠ سفارت خانوں سے بات چیت کے لئے ٢ گھنٹے اور ٣٠ منٹس چاہیے جس میں کال ملانا اٹھانا اور دوسری کال کے درمیان اگر کوئی وقفہ نہ ہو پھر سوچنے کی بات ہے  کہ نئی دہلی اور چین کے سفارت خانے کو چھوڑ کر یورپ، شمالی امریکا اور مشرق وسطیٰ کا کونسا سفارت خانہ آدھی رات کو کھلا ہوتا ہو گا. پاکستان میں ٧ بجے دبئی، ریاض، پیرس، لندن، برلن، ماسکو ہر جگہ صبح کے ٥ سے پہلے کا وقت ہوتا ہے .

اب آپ خود بتائیں اتنا سب کچھ کیا کوئی سادہ سا کمپیوٹر بھی دو گھنٹے میں کر سکتا ہے؟ تو کیا پاکستانی دماغ کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیز نہ ہوا؟

اب آتے ہیں اپنے دانشور کہانی باز کی طرف کہ انھوں طارق فاطمی صاحب کی بے گناہی کے کالم کا آغاز کس طرح کیا ہے

میری طارق فاطمی صاحب سے صرف ایک ملاقات ہے، وزیر اعظم نواز شریف ١٨ جنوری ٢٠١٦ کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کے لئے ریاض اور تہران کے دورے پر گئے، میں بھی اس وفد میں شامل تھا، روانگی سے قبل چک لالہ ائیرپورٹ کے لاؤنج میں طارق فاطمی صاحب سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے پوچھا ” کیا وزیر اعظم ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے میں کامیاب ہو جائیں گے” طارق فاطمی مسکرائے اور نرم آواز میں بولے “ہاں ہو سکتا ہے لیکن ٦٣٢ سے آج تک کوئی شخص یہ کارنامہ سرانجام نہیں دے سکا” میں نے پوچھا “٦٣٢ سے کیوں؟” بولے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٨ جون ٦٣٢ کو انتقال فرمایا تھا، شیعہ اور سنی کی بنیاد اس دن پڑی، یہ دونوں آج تک اکھٹے نہیں ہو سکے، شاید ہم اس تاریخی کارنامے میں کامیاب ہو جائیں” لاؤنج میں تمام لوگ قہقہ لگانے پر مجبور ہو گئے.

طارق فاطمی صاحب شیعہ ہیں اور ہمارے دانشور صاحب نے لکھنے سے پہلے یہ سوچا نہیں کہ طارق صاحب نے سب سے پہلا الزام تو الله پر لگایا کہ نبی اکرم کو اس وقت بلا لیا جب ابھی کام باقی رہتا تھا اور پوری عمارت کے گرنے کا خدشہ تھا

دوسرا الزام طارق فاطمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  پر لگایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کی صحیح تربیت نہیں کی اور صحابہ یک جان نہیں تھے اور وہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دنیا سے رخصت ہوتے ساتھ ہی فتنہ میں پڑ گئے

تیسرا الزام انھوں نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر پر لگا دیا کہ وہ غاصب تھے اور شیعوں کے بقول خلافت کا جو حق حضرت علی کا تھا اس پر قبضہ کر لیا

Advertisements

کلبھوشن یادیو کی سزا اور پاکستان میں ایرانی اور لبرل عناصر کا بین

جیسے ہی ائی ایس پی آر نے کلبھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا کا فیصلہ بتایا ہے تو بھارت میں تو سخت شور اور احتجاج ہو ہی رہا ہے لیکن ساتھ ہی پاکستان میں موجود ایرانی اور لبرل عناصر نے بھی شور مچانا شروع کر دیا ہے. یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ لوگ کیوں ایک دہشت گردی پھیلانے والے کو سزا سنائے جانے پر اتنا شدید ردعمل دے رہے ہیں. پاکستان میں لبرل عناصر نے تو ہمیشہ دہشت گردوں کو سخت سزا دینے کی حمایت کی ہے جو کہ ٹھیک بات بھی ہے. کیونکہ اسلام خود بھی فتنہ اور دہشت گردی کو سب سے بڑا جرم قرار دیتا ہے اور اس کے لئے ہر سزا ہی کم ہے کیونکہ ایک دہشت گردی کا واقعہ بیشمار گھروں کے سکون کو تباہ کر دیتا ہے اور شہید ہونے والے لوگوں کے والدین کو ایک ناقابل بیان اذیت دے جاتا ہے، ان کی بیویوں اور بچوں کو بیوہ اور یتیم کر دیتا ہے اور ایک نظام کو درہم بھرم کرنے کی کوشش کرتا ہے

تو ایسے میں لبرل اور شیعہ پاکستانیوں کا کلبھوشن کی سزا پر اتنے شور کی ایک ہی وجہ ہے کہ یہ پاکستان سے زیادہ ایران کے وفادار ہیں اور کلبھوشن کے بارے میں ہم نے ان ہی صفحات میں بتایا تھا کہ ایران اس کے ساتھیوں کی رہائی کے لئے آواز اٹھا رہا ہے. اور کلبھوشن کی سزا درحقیقت ایران کی پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کی ایک واضح مثال ہے. اور شیعہ پاکستان سے زیادہ ایران کے حامی ہیں

آخر میں بس اتنا ہی کہ ان لوگوں کو کس اپنے مسلمان پاکستانیوں کا بھی اتنا ہی خیال ہو

Is Shireen Mazari trying to spread Iranian Influence in Pakistan?

General Raheel Sharif recent appointment has exposed once again that who is spreading sectarianism in Pakistan. Many of Pakistan’s ex military persons have worked or are working as advisor and consultant to various companies and countries, and proving Pakistanis impeccable military brain and capability.

Now this General Raheel Sharif is getting another opportunity to eradicate terrorism, which is not only bringing bad name to Muslims but also protecting Muslim nations from this evil. This is a very honorable job and gives Pakistan a leading role in Muslim nations.

Now there is only person who is vehemently working against and the person is part of a party which has a case of foreign funding from Indian and Jews and still trying to hide behind constitutional nitty gritty instead of providing the details to ECP. So it does not take a genius to understand that who is spreading sectarianism in Pakistan. Below are some of the interesting tweets you can find on this but unfortunately our media is only reporting one side of the story.

Even International Media knows Iran role in spreading terrorism

ایرانی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی پاکستان میں مشترکہ کاروائیاں

عزیر بلوچ کے تازہ ترین انکشافات کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ ایران اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں مل کر پاکستان میں پاکستان مخالف کاروائیوں میں مصروف ہیں. اور پاکستان میں موجود ایرانیوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک اس بات کو کبھی بھی سامنے انے نہیں دیتا. آج کی ہی تازہ خبروں کو دیکھیں تو ہر محب وطن انسان دیکھ سکتا ہے کہ کس طرح ایران پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہے


شکر ہے کہ فوج نے اس مقدمہ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے ورنہ ملک دشمن لوگ ایسے انڈین اور ایرانی ایجنٹس کو ملک سے فرار قرار دیتے ہیں


یہی وہ لوگ ہیں جو جنرل راحیل شریف کی دہشت گردوں کے خلاف بننے والی فوج کی سربراہی پر شور مچا رہے ہیں

پاکستانیوں کا فکری جمود‎

فی زمانہ پاکستانیوں کی فکری جمود کی ایک وجہ جو سمجھ آتی ھے وہ یہ ھے کہ نقل پر مکمل زور ھے اور عقل کو فہم دین کے ماخذات سے بالکل ہی خارج کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی صدیوں میں جب یونانی کتب کے تراجم شروع ہوئے تو معتزلہ ظہور پزیر ہوئے جنہوں نے ہر چیز کو ہی عقل کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کیا چناچہ معجزاتِ انبیاءِ سابقہ بھی بچوں کا کھیل محسوس ہونے لگے مَثلآ عصاۓ حضرت موسیٰ یا بنی اسرائیل کے لیے سمندر کا پھٹنا یا وادی نمل کے قصہ کی معتزلی تفسیر. اس کے ردِعمل میں سوادِاعظم (mainstream) نقل میں غلو کرنے لگا اور جو آیات قرانی اپنے مفہوم میں بلکل واضح بھی تھیں ان کو بھی مابعد طبعی رنگ میں دیکھنے لگے جیسے سوره بقرہ میں حضرت ابراہیم اور چار پرندوں کا قصہ  یا سوره قمر کی پہلی آیت.

دیگر روایات کو قبول کرنے کے لیے بھی تمام پیمانے، جو بالخصوص حنفی فقہاء نے مرتب کیے تھے، بالائے طاق رکھ دیے گئے، نتیجتاً وہ روایتیں جو ابتدائی احناف نے مسترد کر دی تھیں ہمارے حنفی فقہ کی اصل الاصول بن گئیں۔ مثلاً جادو والی  روایت جو ھشام بن عروہ کے دورِاختلاط (Mental Degenration)  میں عراقیوں نے ان کے کان میں پھونکی اور ھشام اس روایت کے لئے بن گئے. امام ابوحنیفہ، امام ابوبکر جصاص، دونوں نے اس روایت کو مسترد کردیا، نہ صرف اس لیے کہ یہ ھشام کے دورِاختلاط کی تھی اور امام ابو حنیفہ جو کہ ہشام کے تلامذہ میں شامل تھے اور اس دور کے عینی شاھد بھی تھے، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ روایت قرآن کی دو سورتوں  (1) بنی اسرائیل اور (2) فرقان سے ٹکرارہی تھی۔ آج امام ابو حنیفہ کا کوئی نام لیوا اس روایت پر سوال اٹھاتا ھے تو اسے معتزلی ھونے کا طعنہ سننا پڑتا ھے.

دوسری روایت حضرت عائشہ کی ٦ سال کی عمر کی ہے. یہ روایت امام زہری (شیعی) کے زرخیز ذہن کی پیداوار ہے. جو ایک اور شیعہ ابو معاویہ ضریر(رافضی) نے ہشام کو اسی  دور اختلاط میں ان کے والد کے حوالے سے سنائی اور ہشام بیچارے اس پر یقین کر کے اس کو اپنے باپ کے حوالے سے روایت کرنے لگے. ہشام سے اس کو روایت کرنے والوں کی اکثریت کوفہ، بصرہ ہی کی ہے. امام زہری حضرت عائشہ کو مضحکہ خیز حد تک کم عمر اس لئے دکھانا چاہتے تھے کہ یہ ثابت کر سکیں کہ حضرت عائشہ نے اپنی زندگی کا سنجیدہ دور نبی کریم کی زیر تربیت نہیں گزارا. اور جنگ جمل میں ان کا کردار اس بات کا غماض ہے.  واضح رہے امام زہری رئیس المدلسین سمجھے جاتے ہیں اور ان کے والد مسلم بن شہاب، شیعہ کمانڈر مختار ثقفی (جس نے مہدودیت اور پھر نبوت کا دعویٰ بھی کیا تھا) کی باغی فوج میں شامل ہو کر اسلامی حکومت کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے. ابتدائی احناف، جو اس پرآشوب دور کے چشم دید گواہ بھی تھے، کے برعکس تیسری صدی کے احناف نے اس روایت کو بھی بڑی خوش دلی سے قبول کر لیا کیونکہ عباسیوں کا دور شروع ہو چکا تھا.

عباسی خلیفہ مامون رشید، جس کی والدہ خراسانی تھیں، نے اپنے دور میں شیعہ اور معتزلیوں کا رشتہِ مفاد قائم کیا. شیعہ جو کہ اب تک روایت سازی کے دھندے کے ساتھ  ہی وابستہ تھے، نے اب اپنے دین کی اساس عقل پر بھی رکھنا شروع کر دی. یعنی وہ لوگ جو اب تک واضح طور پر مشبہ (Anthropomorphic) تھے، معتزلی فکر کو بھی اپنے مخصوص دین کی بنیاد بنانے لگے. چوتھی اور پانچوی صدی میں جب بنو بویہ کی رافضی سرکار تشکیل پائی تو انھوں نے تقیہ کا لبادہ اتارنا شروع کیا اور یعقوب کلینی نے  اصول کافی لکھ کر سواد اعظم سے علیحدگی کی باضابطہ بنیاد رکھ دی. جعفری فقہ ابھی دورِطفولیت میں ہی تھا.شیعوں نے مشبہ کلامی مذہب کو چھوڑ کر معتزلی کلامی مذہب کو قبول کر لیا اور مشبہ مذہب اہل حدیثوں کو تفویض کر دیا.

شیعہ سنی کی باضابطہ طلاق سے پہلے کا بیشتر پروپیگنڈا لٹریچر سنیوں کو دان کر دیا گیا. اور خود اپنے نئے مذہب کی بنیاد معتزلی اصولوں پر رکھی. نتیجتاً معتزلیوں اور رافضیوں کی مفاد پر مبنی اس رشتہ نے رشتہِ ضرورت کی صورت اختیار کر لی.

سواد اعظم جو معتزلیوں سے پہلے ہی الرجک تھا، اس رشتہ کی وجہ سے مزید متنفر ہو گیا. اور اس چیز نے اس کو عقل سے مزید دور اور نقل میں مزید پیوست کر دیا. آج امت کی اگر اصلاح کرنی ہے تو ہمیں مرض کی حقیقت کو پہلے خود سمجھنا ہو گا اور پھر سمجھانا ہو گا. کیونکہ امتِ وسطیٰ ہونے کی حیثیت سے یہ ہماری ذمہ داری ہے. ابتدائی صدیوں کے شیعوں سے غیر ضروری چشم پوشی نے، ان کی دیومالاؤں کو ہمارے دین کی بنیاد بنا دیا ہے اور اسلام کے خلاف ان کا زہریلا پروپیگنڈا آج حدیث اور تاریخ کے خوشنما عنوانات کے ساتھ ہمارے گلوں سے اتارا جا چکا ہے، قرآن جو حقیقی فرقان تھا اور واقعات کو پرکھنے کی کسوٹی تھی، اس کو بالاۓ طاق رکھ دیا گیا ہے.

زمانہ حال کا اردو دان طبقہ فکری طور پر بلکل بانجھ ہو چکا ہے. اور جب زہن میں اٹھنے والے سوالات کے جواب نہیں ملتے تو شدت پسندی پر اتر اتا ہے. تھوڑا عرصہ پہلے تک جو بیماری دیوبندیوں اور اہل حدیثوں تک محدود تھی اب ممتاز قادری کے بعد بریلویوں میں بھی عود کر آئی ہے. آج سنیوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے کئی بچے، جب اپنی ذہنی الجھنوں کے تسلی بخش جوابات نہیں پاتے تو ان میں سے کوئی صحابہ کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کر کے شیعوں کے ظاہری ایجنڈا کو تقویت پہنچاتا ہے، اور کچھ تو نبی پاکﷺ پر ہی سوال اٹھا کر ملحد بن جاتے ہیں جو کہ شیعوں کا حقیقی ایجنڈا ہے. دور جانے کی کیا ضرورت ہے کہ بھینسا اور موچی اور اس قماش کے دوسرے بلاگرز کے ڈانڈے وہیں جا کر ملتے ہیں. اور انکے لئے شدت سے آواز اٹھانے والے نمایاں چہرے بھی اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں. پاکستان کے مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش دیکھنے لئے Let Us Build Pakistan نامی ویب سائٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے.

اس فکری جمود کو توڑنے کا ایک حل یہ ہے کہ ایک بار ابتدائی صدیوں میں ہونے والے واقعات کی حقیقت کو سمجھا جائے. کس طرح واقعات نے ایک دوسرے کو جنم دیا. معتزلیوں کی عقل پرستی میں غلو، ماموں الرشید کے بعد ان کے اور شیعوں کی بڑھنے والی قربت اور بنو بویہ کی حکومت میں ہونے والی خاموش مفاہمت نے مسلمانوں کو کس طرح سے ایک گھن چکر کا شکار کر دیا ہے.

اس تمام تفصیلی بحث کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس سلسلے میں اب سنجیدہ نوعیت کی کوشش کی جائے، بہت سا معتزلی لٹریچر جو کہ ان پر شیعیت کا رنگ چڑھنے سے پہلے کا ہے، ہماری ادراک میں نئی جہت پیدا کر سکتا ہے. اس سے مراد یہ نہیں کہ معتزلی اپنے نظریہ میں صحیح تھے، اکثر و بیشتر وہ صحیح نہیں تھے، مگر ان کی تحریریں پڑھ کر ہماری نئی نسل عقل کو بھی دین کے ماخذات میں سمجھنے پر غور کرنا شروع کر سکتی ہے.

الطاف حسین نے پاکستان کے دشمنوں کو بے نقاب کر دیا

پچھلے دنوں الطاف حسین نے ایک ایسی تقریر کی جس نے تمام محب وطن پاکستانیوں کو دلی تکلیف پہنچائی. اس تقریر کے بعد ایم کیو ایم کو الطاف حسین سے لا تلقی کا اعلان بھی کرنا پڑا اور ملک کی تمام جماعتوں اور مکتبہ فکر کے لوگوں نے اس تقریر کی پر زور الفاظ میں مذمت بھی کی.

لیکن اس تقریر کا ایک خوبصورت پہلو یہ نکلتا ہے کہ اس تقریر میں الطاف حسین نے اپنی روانی میں پاکستان کے تمام دشمنوں کو بے نقاب کر دیا. وہ اس طرح کہ جب انھوں نے پاکستان کو توڑنے کی بات کی تو ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی بتا دیا کہ کن کن ممالک سے اس سلسلے میں مدد مانگی جائے گی.

ان ٤ ممالک میں سے تین کے بارے میں تو سب پاکستانیوں کو پہلے سے ہی معلوم ہے. انڈیا اور خاص طور پر مودی کا انڈیا تو پاکستان کو ہر ممکن تکلیف پہنچانے میں ہر پوری طاقت سے مصروف ہے. اس سلسلے میں مودی نے ابھی آزادی کی تقریر میں بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کا اعتراف بھی کیا ہے.  اس کے بعد افغانستان ہے جو آج کل انڈیا اور امریکا کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے . اور اس کے بعد اسرائیل کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں.

لیکن جس چھوتھے ملک کا ذکر الطاف حسین نے کیا وہ بہت ہی سنسنی خیز ہے. وہ ہے ایران. اگرچہ پاکستان کے میڈیا میں ایران کا نام کبھی بھی کسی منفی پہلو میں نہیں لیا جاتا لیکن پچھلے ٦، ٧ ماہ میں پے در پے ایسے واقعات ہوۓ ہیں جن سے نظریں چرانا ناممکن ہے. بلکہ نظریں چرانا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے

پچھلے دنوں جو بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو جو ملا وہ براستہ ایران آیا تھا. اس سلسلے میں نہ صرف بھارت کا ایران میں ایک سیٹ اپ ہے بلکہ ٹریننگ سینٹر اور پناہ گاہیں بھی ہیں. اور یہ کام ایران کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا. اس کے بعد پاکستان نے ایران سے باقاعدہ درخواست کی کلبھوشن یادو کے ساتھیوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں

اس کے علاوہ پچھلے کچھ عرصہ ایران مسلسل پاکستان میں نہ صرف حملے کر رہا ہے بلکہ پاکستان کی خودمختاری کو بھی بلائے طاق رکھ رہا ہے. اس سلسلے میں ہمارا میڈیا بھی بلکل خاموش ہے اور اگر آپ ٹویٹر پر کسی صحافی سے اس بارے میں پوچھیں گے تو وہ آپ کو بلاک کر دے گا. لیکن آنکھیں بند کرنے سے حالات بہتر نہیں ہو جائیں گے

ایران ہی تھا جس نے ہمارے اٹمی پروگرام کو روکنے کی کوشش کی اور ایران ہی آج کل پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک بنا کر پیش کرنے میں بھارت کے ساتھ ہم آہنگ ہے. اس سلسلے میں ایران امریکا کو بھی پاکستان کے خلاف پابندیاں لگانے کا کہ رہا ہے

اس کے علاوہ ایران نے حال ہی میں انڈیا کے ساتھ ایک مشترکہ دشمن کے خلاف ایک اتحاد بھی بنانے کا عندیہ دیا ہے اور یہ مشترکہ دشمن پاکستان ہے. یہ ایک بہت بڑی خبر تھی لیکن کسی چینل نے اس کو اہمیت نہیں دی

حال ہی میں ایران میں کشمیریوں کے حق میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے ایک مظاہرے کو بھی ایران نے روک دیا. جب کہ اسی ایران میں کچھ عرصہ پہلے ایک مظاہرے میں ایک اور اسلامی ملک کا سفارت خانے پر حملہ کیا گیا تھا. لیکن تب ایسا کچھ نہیں کیا گیا

اس سے پہلے اس سال کے آغاز میں عزیر بلوچ نے بھی کہا تھا کہ ایران پاکستان میں تخریبی کاروائیوں اور بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں ملوث ہے لیکن میڈیا میں اس خبر کو بھی غائب کر دیا گیا تھا

ایران نے پاکستان میں علیحدگی پسندوں کی نہ صرف مالی معاونت کی ہے بلکہ ان کو نقل و حمل کے ذرائع بھی.

CmN-1ShWIAAqcwQ

اس سلسلے میں یہ بھی یاد رہے کہ طالبان لیڈر کی ہلاکت کے وقت وہ ایران سے ہی بلوچستان آ رہا تھا. جس وقت امریکی ڈرون نے اس کو نشانہ بنایا

آخر کب تک ہم اپنے اپ کو دھوکہ دیتے رہیں گے؟

عزیر بلوچ کے انکشافات اور ہمارا میڈیا

میں ان صفحات میں ایک عرصہ سے لکھ رہا ہوں کے امت مسلمہ کے لئے سب سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں صرف ایران ہے. یہ ایران ہی تھا جس نے حضرت عمرؓ کو قتل کر کے اسلام کو پھیلنے سے روکنے کی پہلی کوشش کی. (اس کے بارے میں مزید تفصیل ادھر دیکھیں). اور پھر یہ ساسانی سلطنت سے اۓ ہوۓ دہشت گرد تھے جنھوں نے مدینہ کا محاصرہ کر کے خلیفہ المسلمین زوالنورین حضرت عثمانؓ کو شہید کیا اور ایک ایسا فتنہ شروع کیا جس کو ہم آج تک جھیل رہے ہیں. کیا یہ سازشیں اسلام کو ختم کرنے کے لئے نہیں تھیں؟ بلکل. یہ حب علیؓ نہیں بلکہ بغض اسلام تھا اور اسلام کو نیست و نابود کرنے کی ایک کوشش تھی

جیسا کہ حضرت عثمانؓ جن کے خون کے قصاص کی بیعت نہ صرف الله کے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ٦ ہجری میں تمام صحابہ سے لی تھی بلکہ اس پر الله نے اپنی رضامندی اور خوشنودی کا بھی اظہار کیا اور اسی لئے اس کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے. تو جس قوم نے اس جلیل قدر صحابی اور داماد رسول (صلى الله عليه وسلم) کو شہید کیا تو کیا ہمیں اس پر کوئی شک ہونا چاہیے کہ وہ قوم در حقیقت اسلام کو ہی ختم کرنے کے در پے ہے اور ہمیشہ سے رہی ہے

اس مناسبت سے میں نے انہی بلاگز میں نے یہ بھی بتایا تھا کے شیعہ جن کو اپنے پانچ بڑے شہید کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے سنی مسلمانوں کو کسی نہ کسی طرح راہ راست سے ہٹایا یا کوئی فتنہ سنی مسلمانوں میں ڈالا. اسی طرح مسلمانوں میں جتنے مشہور غدار گزرے جنھوں نے اسلام کو ذک پہنچائی چاہے وہ ہندوستان میں میر صادق یا میر جعفر ہوں یا بغداد میں ہلاکو خان کی مدد کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی یا حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرمطی ہو یا صلیبیوں کی مدد کرنے والا احمد بن عطا ہو وہ سب کے سب شیعہ ہی ہیں. کیا یہ سب کوئی اتفاق تھا؟ دنیا حرب میں کہا جاتا ہے کہ اتفاق کسی چیز کا نام نہیں

یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ شیعہ پروپیگنڈا کی دنیا میں بہت کامیاب ہیں. وہ حضرت عمرؓ کے قاتل کو اپنا ہیرو بنا کر بھی ہم کو اپنا بھائی بنا لیتے ہیں. حضرت علیؓ کو شہید کر کے اور حضرت حسن کو زخمی کر کے بھی اپنے آپ کو شیعان علی بھی منوائے رکھتے ہیں. اپنے کلمہ کو علیحدہ کر کے اور الله پر غلطی ہو جانے کا الزام لگا کر بھی خود کو مسلمان بنائے رکھے ہیں. اس پروپیگنڈا کی کامیابی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ میڈیا میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں. آج بھی کوئی پاکستانی میڈیا ایران کا نام کسی منفی خبر کے ساتھ نہیں لے گا اور کوئی بھی بڑا صحافی بھی ایران کا نام کسی منفی خبر بریک نہیں کرے گا

اسی لئے بہت سی اہم خبریں جو کہ بریکنگ نیوز بنتیں اگر بھارت میں کوئی ایسی بات کرتا ہمارے میڈیا میں ائی ہی نہیں. جیسے ایران کے پاسداران انقلاب کے اعلی عہدیدار نے اقرار کیا کہ ایران نے ٢ لاکھ جنگجو پاکستان، افغانستان اور دیگر ممالک میں تیار کر لئے ہیں. اس سے پہلے ایران کے ایک حکومتی عہدیدار نے کہا تھا کہ ہم اپنے ہمسایہ میں ١٥ ممالک کی حکومتوں کو گرا کر شیعہ یا شیعہ ہمدرد حکومتیں لانا چاہتے ہیں. تو عزیر بلوچ کے انکشافات حیران کن نہیں ہونے چاہیے کہ ایران بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں ملوث ہیں. اور بلچستان میں علیحدگی پسندوں کو لیاری میں پناہ دی. اس کے علاوہ کراچی میں بھی کالعدم تنظیموں کو پناہ دینے کا اعتراف کیا اور کراچی میں حالات کو خراب رکھنے میں ملوث ہے. اسی لئے ایران کے انٹیلی جنس کے اعلی افسر عزیر بلوچ کو دبئی سے ایران بچا کر لے جانے کی کوشش میں رہے

کل یہ مضمون میں نے سیاست داٹ پی کے، کے  انٹرنیشنل ڈسکشن کے فورم پر ڈالا تھا. اور رات کو دیکھا تو میرے ٹاپک کو ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا اور ایڈمنسٹریٹر کی طرف سے کوئی میسج بھی نہیں ملا. اسی طرح زم تی وی داٹ کام پر بھی اس کو ڈالا لیکن ایڈمنسٹریٹر نے منظور نہیں کیا؟ تو کیا جو باتیں میں نے کہی ہیں اس مضمون میں وہ سچ ہیں؟ خود فیصلہ کر لیں. دلائل کے جواب میں دلائل نہ ہوں تو زبان بند کر دی جاتی ہے. یہ ہمیشہ سے صاحب استطاعت کا دستور رہا ہے