کلبھوشن یادیو کی سزا اور پاکستان میں ایرانی اور لبرل عناصر کا بین

جیسے ہی ائی ایس پی آر نے کلبھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا کا فیصلہ بتایا ہے تو بھارت میں تو سخت شور اور احتجاج ہو ہی رہا ہے لیکن ساتھ ہی پاکستان میں موجود ایرانی اور لبرل عناصر نے بھی شور مچانا شروع کر دیا ہے. یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ لوگ کیوں ایک دہشت گردی پھیلانے والے کو سزا سنائے جانے پر اتنا شدید ردعمل دے رہے ہیں. پاکستان میں لبرل عناصر نے تو ہمیشہ دہشت گردوں کو سخت سزا دینے کی حمایت کی ہے جو کہ ٹھیک بات بھی ہے. کیونکہ اسلام خود بھی فتنہ اور دہشت گردی کو سب سے بڑا جرم قرار دیتا ہے اور اس کے لئے ہر سزا ہی کم ہے کیونکہ ایک دہشت گردی کا واقعہ بیشمار گھروں کے سکون کو تباہ کر دیتا ہے اور شہید ہونے والے لوگوں کے والدین کو ایک ناقابل بیان اذیت دے جاتا ہے، ان کی بیویوں اور بچوں کو بیوہ اور یتیم کر دیتا ہے اور ایک نظام کو درہم بھرم کرنے کی کوشش کرتا ہے

تو ایسے میں لبرل اور شیعہ پاکستانیوں کا کلبھوشن کی سزا پر اتنے شور کی ایک ہی وجہ ہے کہ یہ پاکستان سے زیادہ ایران کے وفادار ہیں اور کلبھوشن کے بارے میں ہم نے ان ہی صفحات میں بتایا تھا کہ ایران اس کے ساتھیوں کی رہائی کے لئے آواز اٹھا رہا ہے. اور کلبھوشن کی سزا درحقیقت ایران کی پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کی ایک واضح مثال ہے. اور شیعہ پاکستان سے زیادہ ایران کے حامی ہیں

آخر میں بس اتنا ہی کہ ان لوگوں کو کس اپنے مسلمان پاکستانیوں کا بھی اتنا ہی خیال ہو

Advertisements

Is Shireen Mazari trying to spread Iranian Influence in Pakistan?

General Raheel Sharif recent appointment has exposed once again that who is spreading sectarianism in Pakistan. Many of Pakistan’s ex military persons have worked or are working as advisor and consultant to various companies and countries, and proving Pakistanis impeccable military brain and capability.

Now this General Raheel Sharif is getting another opportunity to eradicate terrorism, which is not only bringing bad name to Muslims but also protecting Muslim nations from this evil. This is a very honorable job and gives Pakistan a leading role in Muslim nations.

Now there is only person who is vehemently working against and the person is part of a party which has a case of foreign funding from Indian and Jews and still trying to hide behind constitutional nitty gritty instead of providing the details to ECP. So it does not take a genius to understand that who is spreading sectarianism in Pakistan. Below are some of the interesting tweets you can find on this but unfortunately our media is only reporting one side of the story.

Even International Media knows Iran role in spreading terrorism

ایرانی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی پاکستان میں مشترکہ کاروائیاں

عزیر بلوچ کے تازہ ترین انکشافات کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ ایران اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں مل کر پاکستان میں پاکستان مخالف کاروائیوں میں مصروف ہیں. اور پاکستان میں موجود ایرانیوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک اس بات کو کبھی بھی سامنے انے نہیں دیتا. آج کی ہی تازہ خبروں کو دیکھیں تو ہر محب وطن انسان دیکھ سکتا ہے کہ کس طرح ایران پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہے


شکر ہے کہ فوج نے اس مقدمہ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے ورنہ ملک دشمن لوگ ایسے انڈین اور ایرانی ایجنٹس کو ملک سے فرار قرار دیتے ہیں


یہی وہ لوگ ہیں جو جنرل راحیل شریف کی دہشت گردوں کے خلاف بننے والی فوج کی سربراہی پر شور مچا رہے ہیں

شہید ششم: شیخ نمر النمر

شیخ نمر کے قتل پر آج کل ملت جعفریہ کا احتجاج زور و شور سے جاری ہے. سنی حکمران کے ہاتھوں ملک میں بدامنی اور بغاوت پھیلانے کے جرم پر قتل کئے جانے پر پوری شیعہ قوم سراپا احتجاج ہے. بہت ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں ان کو شہید سادس (شہید ششم) کا بھی خطاب مل جائے. آج تک پانچ لوگوں کو شیعوں نے یہ سب سے بڑی شہادت کا اعزاز دیا ہے. یہ خطاب صرف ان شخصیات کو دیا گیا ہے جنھوں نے جھوٹ اور مکر سے کام لے کر سنیوں کی صفوں میں گھس کر شیعہ عقائد کی ترویج کا ‘کارنامہ’ سر انجام دیا ہے. یہ شہادت کسی ایک بھی ایسی شخصیت کو نہیں ملی جس نے کسی غیر مسلم کے خلاف کوئی بہادری کے جوہر دیکھائے ہوں. آئیے ان پانچ شیعوں کے نزدیک بڑے شہیدوں کے احوال بیان کرتے ہیں.

شہید اول: محمد جمالدین المکی

یہ نہ ہی اسلام کے پہلے شہید ہیں اور نہ ہی شیعوں کے پہلے شہید ہیں. لیکن ان کو شہید اول کا خطاب اس لئے ملا کیونکہ انھوں نے جھوٹ بولا جس کو شیعہ تقیہ کرنا کہتے ہیں اور اپنے آپ کو سنی ظاہر کر کے فتوے دیے اور شراب کو حلال قرار دیا اور حضرت ابو بکر، حضرت عائشہ، اور حضرت عمر کی شان میں گستاخیاں کیں. سلطان برقوق کے مقدمہ چلا اور ثابت ہونے پر ان کو قتل کر دیا گیا. ان کا ‘کارنامہ’ یہ تھا کے سنیوں کو گمراہ کیا اور خلیفہ المومنین کے خلاف گستاخیاں کیں. اس لئے ان کو شہید اول کا درجہ ملا.

شہید دوم: زین البیدین الجبی

یہ بھی ١٦ ویں صدی کے شہید ہیں. انھوں نے بھی اپنے وقت میں بہترین شیعہ فقہ پڑھا اور شہید اول کی سوانح حیات لکھی. انھوں نے بھی اپنے اپ کو تقیہ کر کے سنی ظاہر کیا اور سنی مدارس میں استاد بھی مقرر ہو گئے. جہاں پر انھوں نے شیعہ عقید کی ترویج اپنے آپ کو سنی ظاہر کر کے شروع کر دی. اس کے سبب ان کو قتل کر دیا گیا. ان کا ‘کارنامہ’ بھی سنیوں کو گمراہ کرنا اور جھوٹ بول کر شیعہ عقید کی ترویج کرنا تھا. جس کے سبب ان کو شہید دوم کا خطاب ملا.

شہید سوم: قاضی نور الله شوستری

یہ بھی ١٦ ویں صدی کے شہید ہیں. یہ ایران میں پیدا ہوۓ اور انڈیا آ کر بس گئے. انھوں نے بھی تقیہ کر کے اپنے آپ کو سنی ظاہر کیا اور قاضی لگ گئے. پہلے دو شہیدوں کے طرح انھوں نے بھی سنی کے بھیس میں شیعہ فقہ کی ترویج شروع کر دی. جہانگیر کے دور حکومت میں ان کی اصلیت آشکار ہو گئی اور ان کے خلاف مقدمہ چلا اور الزام ثابت ہونے پر ان کو سزائے موت دے دی گئی. ن کا ‘کارنامہ’ بھی سنیوں کو گمراہ کرنا اور جھوٹ بول کر شیعہ عقید کی ترویج کرنا تھا. جس کے سبب ان کو شہید سوم کا خطاب ملا.

شہید چہارم: مرزا محمد کامل دہلوی

یہ بھی ہندوستان میں شہید ہوۓ. کہا جاتا ہے کے انھوں نے ایک کتاب نزھۃ اثنا عشريۃ لکھی. یہ کتاب مبینہ طور پر تحفة اثنا عشرية‎ کے جواب میں لکھی گئی تھی جس میں شاہ عبدلعزیز صاحب نے شیعوں کی اصلیت ظاہر کی تھی.  لیکن یہ کتاب  نزھۃ اثنا عشريۃ کہیں ملتی نہیں. الزام لگایا جاتا ہے کے ان کو ہندوستان کی ریاست کے ایک سنی حاکم نے زہر دے کر مار دیا. لیکن نہ ہی کتاب ملتی اور نہ ہی زہر دینے والے کا نام ملتا ہے اور قرین قیاس یہی ہے کے یہ بھی تقیہ کیا گیا ہے یعنی جھوٹ بولا گیا ہے. جب شیعوں سے ایک علمی اور عقلی دلائل پر مبنی کتاب کی نفی نہیں ہو سکی تو الزام لگا دیا کہ جو جواب لکھ رہا تھا اس کو زہر دے دیا گیا.

شہید پنجم: آیت اللہ محمد باقر الصدر

پانچویں شہید آیت اللہ محمد باقر الصدر عراق کے رہنے والے تھے. ١٩٤٥ میں یہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجف چلے گئے اور وہیں سکونت اختیار کی اور ساتھ ساتھ وہاں کی شیعہ برادری میں درس و تدریس سے مشہوری حاصل کی. ١٩٨٠ میں انھوں نے باقر الحکیم کے ساتھ مل کر عراقی حکومت کو گرانے کے لئے ایک تنظیم بنائی. جس کے جرم میں ان کو قید کی سزا ہوئی اور پھر اخر میں سزائے موت دے دی گئی. ان کا بھی ‘کارنامہ’ ایک مسلمان سنی حکومت کے خاتمہ کی کوشش کرنا تھا.

سوچنے کی بات یہ ہے کے شیعوں کے پانچوں بڑے شہید وہ ہیں جن کو سنیوں نے ملک میں بغاوت اور بدامنی پھیلانے کے جرم میں قتل کیا. ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس نے ہنود، یہود یا نصرانیوں کے خلاف کوئی داد شجاعت حاصل کی ہو. تو پھر ہم کس حیثیت سے سوچتے ہیں کے شیعہ سنی بھائی بھائی؟ اور ہمیں لڑانے والے یہودی ہیں؟ کیا یہ پانچ عظیم المرتبت شیعوں کے شہداء یہودیوں یا غیر مسلموں نے بنا کر دیے ہیں؟ ایک شیعہ جو اپنی تاریخ اور شہدا کی تاریخ پڑھتا ہو گا اس کو سب سے بڑا دشمن کون دکھتا ہو گا؟ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو ہندوستان کے لئے پاکستان اتنا بڑا دشمن نہیں جتنا بڑا شیعوں کے لئے (سنی) مسلمان دشمن ہے.

Link: https://en.wikipedia.org/wiki/Five_Martyrs_of_Shia_Islam

شکریہ عمر چیمہ

پچھلے کچھ عرصہ سے داعش کے نام خبروں میں تواتر سے ا رہا ہے اور پاکستان کے حوالہ سے بھی شکوک و شبہات پیش کیے جا رہے ہیں. لیکن مرے لئے برا مسئلہ یہ تھا کے اخر یہ ہے کون اور ان کے ایک دم سے وجود میں انے کی وجہ کیا بنی؟

اگر ہم داعش کے مقبوضہ علاقوں کو دیکھیں تو یہ سارے کے سارے سنی اکثریت کے علاقے ہیں. اور داعش کے مظالم بھی ان ہی علاقوں میں ہوۓ ہیں. ویسے تو داعش کو سنی دہشت گردی کی تحریک کہا جاتا ہے مگر اس کے مظالم اور فتوحات بھی سنی علاقوں میں ہی ہے. پھر اس کے بعد مجھے کچھ یو ٹیوب کی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جن میں بتایا گیا ہے کہ داعش کا انگریزی مخفف ائی ایس ائی ایس اصل میں اسرائیلی سیکرٹ انٹیلی جنس سروس کا مخفف ہے. پھر اس میں مزید معلومات بھی ہے.
https://youtu.be/zd6-XCE8-6M

لیکن میڈیا میں ہمیشہ داعش کو سنی مسلمانوں کی انتہا پسند تنظیم ہی بتایا گیا اور ایسا بتایا گیا جیسے کے عراق میں سنی مظالم کے ردعمل میں یہ وجود میں ائی ہے. لیکن پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کے اگر یہ عراقی شیعہ حکومت کے ردعمل میں ائی ہے تو پھر اس کے سارے مظالم سنیوں کے خلاف کیوں ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ سعودی عرب اور دوسرے ممالک جہاں اس نے کروائی کی ہے وہاں بھی سنی حکومتیں ہیں اور ایران جو شیعہ حکومت کا سب سے بڑا مددگار ہے وہاں اس نے کوئی کروائی نہیں کی.

پھر مزید تحقیق تو کو معلوم ہوا کہ شام میں بھی داعش کی زیادہ مدد اسد حکومت کو گئی کہ جو علاقے اسد حکومت کے ہاتھوں سے نکل کر وہاں کی آزادی پسند تنظیموں کے ہاتھوں میں تھے ان پر داعش نے قبضہ کر لیا.

اگر داعش واقعی میں شیعوں کے خلاف تھی تو اس کو تو وہاں پر موجود سنی تحریکوں کے ساتھ مل کر اسد حکومت کے خاتمہ میں مدد کرنی چاہیے تھی نہ کہ اسد حکومت کے خلاف سنی تحریکوں کے ساتھ لڑ کر ان سنی تحریکوں کو کمزور کرتی

لیکن اب عمر چیمہ کے آرٹیکل کو پڑھ کر داعش کی بارے میں مجھے تصویر کو مکمل کرنے میں مدد ملی. عمر چیمہ نے لکھا کے لاہور سے داعش میں شامل ہونے کے لئے خواتین اور بچے کویٹہ پہنچے اور وہاں سے براستہ ایران انھوں نے داعش میں شامل ہونا تھا.
http://www.thenews.com.pk/print/85370-20-men-women-children-from-Lahore-join-Daesh-go-to-Syria

پہلی بات تو یہ کہ ایران کوئی چھوٹا سا ملک نہیں ہے اور وہاں پر سنیوں کے خلاف زبردست مخاصمت پائی جاتی ہے. تو ایک سنی جو بظاھر ایران کے خلاف لڑنے شام جا رہا ہے (یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اسد کی حکومت ایران ہی چلا رہا ہے اور ایران کی وجہ سے ہی اسد اپنی حکومت کو بچائے ہوۓ ہے) وہ ایران سے ہو کر جائے گا اور اس کے بعد عراق سے گزرے گا جو خود ایران کے زیر تسلط ہے. ایران کے لوگ عراق میں بغیر ویزا کے آ جا رہے ہیں.

اصل میں حقیقت صاف ہو جاتی ہے اگر انسان میڈیا کی خبروں کو دماغ کھول کر سنے. عراق اور شام میں شیعوں کی حکومتیں سنیوں کے خلاف محاذ آرائی کی وجہ سے کمزور ہو چکی تھیں اور ان کے گرنے کا اندیشہ ہی نہیں بلکہ گرنا حتمی ہو چکا تھا تو ایسے موقع پر سنیوں کی توجہ بٹانے کے لئے اور شیعہ کی غیر فعال حکومت کے لئے ہمدردی سمیٹنے کے لئے ایران اور اسکے ہمنواؤں نے ایک تحریک شروع کی داعش کے نام سے اور اب سارا میڈیا اس داعش کی خبریں دینے میں لگا ہوا ہے اور اسد کے مظالم کے لئے کسی کے پاس کوئی وقت نہیں

اور سنی خود بھی الجھن کا شکار ہو گئے ہیں. شام اور عراق میں شیعوں کو مکمل اختیار ہے اور وہاں کا خطہ بھی افغانستان کی طرح بہت زیادہ پہاڑوں اور غاروں سے بھرپور نہیں تو پھر داعش کو جدید اسلحہ اور سازو سامان کہاں سے مل رہا ہے؟ یہ سازو سامان حکومت کی مدد کے بغیر نہیں مل سکتا

 اور یہ بھی یاد رکھیں کے جب جب شام کی آزادی پسند تنظیمیں داعش کے خلاف لڑنے نکلیں تو روس نے ان لوگوں کے خلاف بمباری کی جو کہ  داعش کے خلاف لڑ رہے تھے.

شام میں غیر ملکی دہشت گرد: ایرانی، افغانی اور پاکستانی

سنی دہشت گردوں کی گھر واپسی پر تو بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے لیکن پاکستانی اور افغانی شیعہ دہشت گردوں کے بارے میں بہت کم توجہ دی گئی ہے. اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کے افغانی اور پاکستانی شیعہ دہشت گرد حزب الله کے جھنڈے تلے لڑ رہے ہیں (لیکن مترجم کے نزدیک اس کی زیادہ بڑی وجہ یہ ہے کے پاکستانی میڈیا پر شیعہ کا مکمل کنٹرول ہے اور ایران اور شیعہ کی دہشت گردانہ کاروائیوں پر کوئی لفظ پاکستانی میڈیا میں نہیں انے دیا جاتا. اگر اتا بھی ہے تو ایک برادر ملک یا اس قسم کے اس قسم کے مبہم الفاظ کے ذریعے ڈھانپ دیا جاتا ہے لیکن جہاں پر شیعہ کو مظلوم دیکھانا ہوتا ہے وہاں پر ان کو شیعہ بار بار بیان/لکھا جاتا ہے.

فاطمیوں بریگیڈ، حزب الله کی وہ بریگیڈ ہے جو صرف افغانی شیعہ دہشت گردوں پر مشتمل ہے. اس وقت ایک اندازے کے مطابق ١٠ ہزار سے ٢٠ ہزار تک افغانی شیعہ حزب الله کے جھنڈے تلے لڑ رہے ہیں. اب تک افغان شیعہ دہشت گردوں نے اس کی ایک بھاری قیمت بھی ادا کی ہے. اور تقریباً ٧٠٠ کے قریب افغان شیعہ دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں. ان افغان شیعہ دہشت گردوں کی اصل تعداد معلوم کرنے میں بڑی دشواری یہ ہے کے اکثر اوقات ان کے مرنے پر ان کی لاش کو واپس نہیں حاصل کیا جاتا اور وہیں چھوڑ دیا جاتا ہے.

اگرچہ پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کی اصل تعداد معلوم نہیں کی جا سکتی لیکن ایک بات واضح ہے کے ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے. پہلے جب ان کی تعداد کم تھی تو پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کو دوسرے یونٹس میں ڈال دیا جاتا ہے اب جب کہ ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا ہے تو ان کا اپنا یونٹ زینبیوں بریگیڈ  بنا دیا گیا ہے. (مترجم کے خیال میں اس سے ظاہر ہوتا ہے کے پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کی تعداد بھی ہزاروں میں پہنچ چکی ہے). ابھی تک ٢٠ پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کا جنازہ ہو چکا ہے لیکن پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کے مرنے کی صحیح تعداد اندازہ لگانا نا ممکن ہے. (واضح رہے  بہت سے پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کی نماز جنازہ ایران میں بھی ادا کی جاتی رہی ہے )

اس سے یہ بات واضح ہے کے اس وقت شام میں پاکستانی اور افغانی شیعہ دہشت گردوں کی تعداد داعش میں شامل مغربی دہشت گردوں سے بہت زیادہ ہے.

اس میں اہم بات یہ ہے کے ان شیعہ دہشت گردوں کو بھیجنے والا ایران ہے. کیونکہ افغانی اور یہ پاکستانی سخت جان ہوتے ہیں اس لئے ایران ان کو اچھی تنخواوں پر لے کر شام بھیجتا ہے. اور اگر یہ لڑنے سے انکار کرتے ہیں تو ان کو دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں. شام میں لڑنے کے عوض ان کو ایران کی شہریت کی بھی لالچ دی جاتی ہے. ان لوگوں کو لڑنے پر آمادہ کرنے کے لئے شیعہ کے مقدس مقامات کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے.

یہاں پر یہ بات بھی ذہن میں رہے کے ایرانی، شیعہ دہشت گردوں کو پاکستان اور افغانستان کے اندر سے بھی بھرتی کر رہے ہیں اور اس میں صرف وہ لوگ شامل نہیں جو کسی وجہ سے پاکستان اور افغانستان چھوڑ کر ایران بھگ گئے ہیں. ایک جرمن صحافی نے یہ بھی بتایا کے یہ بھرتیاں ایرانی سفارت خانے کے تعاون سے ہو رہی ہیں اور ایرانی سفارت خانہ ان لوگوں کے وزٹ ویزا کا اہتمام کرتا ہے. ہر مہینے سینکڑوں شیعہ دہشت گردوں کو وزٹ ویزا مہیہ کیا جاتا ہے. اس کے علاوہ پاکستان میں اردو ویب سائٹس بھی بنائی گئی ہیں اس قسم کی بھرتیوں کے لئے. مزید تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کے دہشت گردوں کی زیادہ تعداد غیر قانونی ایران میں مقیم پاکستانی اور افغانیوں کی نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان میں رہنے والے شیعہ دہشت گردوں کی ہے. اس کے علاوہ ایرانی، پاکستان اور افغانستان میں حزب الله کی باقاعدہ تنظیم کھولنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے تاکہ وہ ان علاقوں میں اپنے اثر و رسوخ کو پھیلا سکے.

جیسے جیسے شیعہ دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے مستقبل میں پڑنے والے خطرات اور خدشات مزید خطرناک ہوتے جا رہے ہیں. یہ کچھ بعید از قیاس نہیں کے جب یہ شیعہ دہشت گرد واپس اپنے ملکوں میں جایئں گے تو ایرانی دہشت گردی اور ایران کے مذموم مقاصد کو مزید وسعت دیں گے.

شکریہ: انٹرنیشنل انٹرسٹ

Link: http://nationalinterest.org/feature/syrias-other-foreign-fighters-irans-afghan-pakistani-14400

Is Pakistan next war going to be with Iran?

When muslims migrated from Makkah to Medinah, their initial wars were with the Quraish of Makkah. But after ghazwa khandaq quraish realised that they cannot win. So they decided not to fight any more. But the jews of the medinah and surrounding never stopped conspiring against the muslims of Medinah. So Prophet (PBUH) has to go to khyber to end their resistance.

 

Since the creation of Pakistan India has been our known and open enemy. We had fought multiple wars with India and India leave no chance in harming Pakistan. But we have another very hidden and dangerous enemy and that is Iran. Since 2002 India has a pact with Iran in which Iran will support India in war, and it goes without saying whom Pakistan have fought wars.
https://twitter.com/HKParas/status/595658354292305920

Iran is also the one who tried to get our nuclear program rolled back but Alhamdulillah Allah protected it. But now with the deal between west and iran, iran is becoming very aggressive. According to the deal Iran will be allowed to self inspect itself. What is the use of that inspection?

Iran forces are actively engaged in Syria, Iraq, Yemen and their army majors are getting killed in these foreign country wars and nobody is raising any criticism on it.

 

Pakistan is receiving only US $50 billion from China for which the Pakistanis are making it the biggest achievement. On the other hand Iran is getting US $150 billion. Yes it is ONE HUNDRED AND FIFTY BILLION AMERICAN DOLLARS for just signing the treaty.

 

and what Iran is going to do with this money, its going to buy lot of weapons, weapons of mass destructions also. Iran is already placing big orders with the world arms manufacturers.

This is the largest order for Russia also and we have to remember that India mostly buys from Russia lot of weapons but this order is bigger than what India usually buy one time.

 

On the other hand Indian Naval War Fleet is in Iran on a friendly visit.

Also America is expecting better relationship between USA and Israel after Iran Deal. Why is it so?

and

Connecting these dots give us a very horrifying picture. But the braves are only those who decide to take on the horror. Unfortunately our media is totally under the control of the west and Iran and its not going to report anything against the hands that feed it. But if we don’t open our eyes i think we will be surprised by this western neighbor and even the independent media says that Pakistan’s bloody sectarianism has its root in Iran’s Islamic Revolution of 1979.

We do need to remember also that Iran has also crossed our borders and killed our soldiers in past, when it was under so called sanctions.

In 1971 war we lost half of Pakistan waiting for the 7th fleet of our great ally America. Today we have to remember that we should not lose another part of ours on the promises of another so called friend because in the world politics nobody is your friend if you are not your own friend.

So it is important that we make contract, bring investment but also protect our borders and integrity and define our foreign policy keeping in view our own interest. We should remember that we have a large consumer population which every country is interested in capitalizing on. But its our duty only and exclusively to protect our own interests.

In the end even the Intelligence experts believe that the Iranian Nuclear deal is going to escalate Iranian terrorism in the region

the truth is summarized in just one tweet