پاکستانی دماغ جدید ترین سپر کمپیوٹر سے بھی تیز

جاوید چوھدری کے آج کے کالم ٤ مئی کا عنوان ہے یہ طارق فاطمی کے ساتھ زیادتی کا ایک اقتباس دیا گیا ہے

طارق فاطمی صبح پانچ بجے اٹھتے ہیں، جاگنگ اور واک کرتے ہیں اور ناشتہ کر کے سات بجے دفتر پہنچ جاتے ہیں، یہ اسٹاف کے انے سے پہلے دنیا کے تمام بڑے نیوز پپرز، پاکستان کے تمام اخبارات، نیوز سمریاں، پاکستانی سفارت خانوں کے پیغامات اور گزشتہ دن کی ساری فائلیں پڑھ لیتے ہیں، یہ دفتر کھلے سے پہلے دنیا کے تمام دارالحکومتوں میں اپنے سفیروں سے ٹیلی فون پر بات بھی کر چکے ہوتے ہیں اور یہ دن بھر کی تمام اہم ترین معلومات بھی یاد کر چکے ہوتے ہیں

٧ بجے سے آفس کھلنے تک انسان کے پاس ٢ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتے. اس میں اگر کسی نے امریکی اخبار پڑھا ہو تو اس کو معلوم ہو کہ وہاں کے ایک اخبار کے تمام ادارتی  مضامین پڑھنے کے لئے یہ وقت بہت کم ہے اور دنیا بھر کے تمام اخبارات کا مطالعہ کرنا ان ٢ گھنٹوں میں انسان کے بس کی بات نہیں، پھر اگر پاکستان کے ١٠ اہم اخباروں کو لیا جائے تو ان کا سرسری جائزہ لینے کے لئے بھی ٢ گھنٹے نا کافی ہیں. اس کے بعد نیوز سمریاں بنانا کوئی آسان کام نہیں، مزید یہ کہ اگر پاکستانی سفارت خانے تندہی سے کام کر رہے ہیں تو روزانہ کے تقریباً  ٢٠٠ پیغامات تو انے چاہیے، ہر سفارت خانے سے اوسط ١ پیغام روزانہ کا، ان ٢٠٠ پیغامات کو پڑھنے کے لئے کم از کم ٢٠٠ منٹ چاہیے جو ٣ گھنٹے سے زیادہ بنتے ہیں

پھر پاکستان کے تمام اہم سفارت خانوں کی تعداد اگر ٣٠ بھی لگائی جائے تو ایک سفارت خانے سے بات چیت کے لئے ٥ منٹ بہت قلیل ہیں لیکن ٥ منٹ ٣٠ سفارت خانوں سے بات چیت کے لئے ٢ گھنٹے اور ٣٠ منٹس چاہیے جس میں کال ملانا اٹھانا اور دوسری کال کے درمیان اگر کوئی وقفہ نہ ہو پھر سوچنے کی بات ہے  کہ نئی دہلی اور چین کے سفارت خانے کو چھوڑ کر یورپ، شمالی امریکا اور مشرق وسطیٰ کا کونسا سفارت خانہ آدھی رات کو کھلا ہوتا ہو گا. پاکستان میں ٧ بجے دبئی، ریاض، پیرس، لندن، برلن، ماسکو ہر جگہ صبح کے ٥ سے پہلے کا وقت ہوتا ہے .

اب آپ خود بتائیں اتنا سب کچھ کیا کوئی سادہ سا کمپیوٹر بھی دو گھنٹے میں کر سکتا ہے؟ تو کیا پاکستانی دماغ کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیز نہ ہوا؟

اب آتے ہیں اپنے دانشور کہانی باز کی طرف کہ انھوں طارق فاطمی صاحب کی بے گناہی کے کالم کا آغاز کس طرح کیا ہے

میری طارق فاطمی صاحب سے صرف ایک ملاقات ہے، وزیر اعظم نواز شریف ١٨ جنوری ٢٠١٦ کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کے لئے ریاض اور تہران کے دورے پر گئے، میں بھی اس وفد میں شامل تھا، روانگی سے قبل چک لالہ ائیرپورٹ کے لاؤنج میں طارق فاطمی صاحب سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے پوچھا ” کیا وزیر اعظم ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے میں کامیاب ہو جائیں گے” طارق فاطمی مسکرائے اور نرم آواز میں بولے “ہاں ہو سکتا ہے لیکن ٦٣٢ سے آج تک کوئی شخص یہ کارنامہ سرانجام نہیں دے سکا” میں نے پوچھا “٦٣٢ سے کیوں؟” بولے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٨ جون ٦٣٢ کو انتقال فرمایا تھا، شیعہ اور سنی کی بنیاد اس دن پڑی، یہ دونوں آج تک اکھٹے نہیں ہو سکے، شاید ہم اس تاریخی کارنامے میں کامیاب ہو جائیں” لاؤنج میں تمام لوگ قہقہ لگانے پر مجبور ہو گئے.

طارق فاطمی صاحب شیعہ ہیں اور ہمارے دانشور صاحب نے لکھنے سے پہلے یہ سوچا نہیں کہ طارق صاحب نے سب سے پہلا الزام تو الله پر لگایا کہ نبی اکرم کو اس وقت بلا لیا جب ابھی کام باقی رہتا تھا اور پوری عمارت کے گرنے کا خدشہ تھا

دوسرا الزام طارق فاطمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  پر لگایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کی صحیح تربیت نہیں کی اور صحابہ یک جان نہیں تھے اور وہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دنیا سے رخصت ہوتے ساتھ ہی فتنہ میں پڑ گئے

تیسرا الزام انھوں نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر پر لگا دیا کہ وہ غاصب تھے اور شیعوں کے بقول خلافت کا جو حق حضرت علی کا تھا اس پر قبضہ کر لیا

Advertisements

کلبھوشن یادیو کی سزا اور پاکستان میں ایرانی اور لبرل عناصر کا بین

جیسے ہی ائی ایس پی آر نے کلبھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا کا فیصلہ بتایا ہے تو بھارت میں تو سخت شور اور احتجاج ہو ہی رہا ہے لیکن ساتھ ہی پاکستان میں موجود ایرانی اور لبرل عناصر نے بھی شور مچانا شروع کر دیا ہے. یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ لوگ کیوں ایک دہشت گردی پھیلانے والے کو سزا سنائے جانے پر اتنا شدید ردعمل دے رہے ہیں. پاکستان میں لبرل عناصر نے تو ہمیشہ دہشت گردوں کو سخت سزا دینے کی حمایت کی ہے جو کہ ٹھیک بات بھی ہے. کیونکہ اسلام خود بھی فتنہ اور دہشت گردی کو سب سے بڑا جرم قرار دیتا ہے اور اس کے لئے ہر سزا ہی کم ہے کیونکہ ایک دہشت گردی کا واقعہ بیشمار گھروں کے سکون کو تباہ کر دیتا ہے اور شہید ہونے والے لوگوں کے والدین کو ایک ناقابل بیان اذیت دے جاتا ہے، ان کی بیویوں اور بچوں کو بیوہ اور یتیم کر دیتا ہے اور ایک نظام کو درہم بھرم کرنے کی کوشش کرتا ہے

تو ایسے میں لبرل اور شیعہ پاکستانیوں کا کلبھوشن کی سزا پر اتنے شور کی ایک ہی وجہ ہے کہ یہ پاکستان سے زیادہ ایران کے وفادار ہیں اور کلبھوشن کے بارے میں ہم نے ان ہی صفحات میں بتایا تھا کہ ایران اس کے ساتھیوں کی رہائی کے لئے آواز اٹھا رہا ہے. اور کلبھوشن کی سزا درحقیقت ایران کی پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کی ایک واضح مثال ہے. اور شیعہ پاکستان سے زیادہ ایران کے حامی ہیں

آخر میں بس اتنا ہی کہ ان لوگوں کو کس اپنے مسلمان پاکستانیوں کا بھی اتنا ہی خیال ہو

Is Shireen Mazari trying to spread Iranian Influence in Pakistan?

General Raheel Sharif recent appointment has exposed once again that who is spreading sectarianism in Pakistan. Many of Pakistan’s ex military persons have worked or are working as advisor and consultant to various companies and countries, and proving Pakistanis impeccable military brain and capability.

Now this General Raheel Sharif is getting another opportunity to eradicate terrorism, which is not only bringing bad name to Muslims but also protecting Muslim nations from this evil. This is a very honorable job and gives Pakistan a leading role in Muslim nations.

Now there is only person who is vehemently working against and the person is part of a party which has a case of foreign funding from Indian and Jews and still trying to hide behind constitutional nitty gritty instead of providing the details to ECP. So it does not take a genius to understand that who is spreading sectarianism in Pakistan. Below are some of the interesting tweets you can find on this but unfortunately our media is only reporting one side of the story.

Even International Media knows Iran role in spreading terrorism

ایرانی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی پاکستان میں مشترکہ کاروائیاں

عزیر بلوچ کے تازہ ترین انکشافات کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ ایران اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں مل کر پاکستان میں پاکستان مخالف کاروائیوں میں مصروف ہیں. اور پاکستان میں موجود ایرانیوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک اس بات کو کبھی بھی سامنے انے نہیں دیتا. آج کی ہی تازہ خبروں کو دیکھیں تو ہر محب وطن انسان دیکھ سکتا ہے کہ کس طرح ایران پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہے


شکر ہے کہ فوج نے اس مقدمہ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے ورنہ ملک دشمن لوگ ایسے انڈین اور ایرانی ایجنٹس کو ملک سے فرار قرار دیتے ہیں


یہی وہ لوگ ہیں جو جنرل راحیل شریف کی دہشت گردوں کے خلاف بننے والی فوج کی سربراہی پر شور مچا رہے ہیں

پاکستانیوں کا فکری جمود‎

فی زمانہ پاکستانیوں کی فکری جمود کی ایک وجہ جو سمجھ آتی ھے وہ یہ ھے کہ نقل پر مکمل زور ھے اور عقل کو فہم دین کے ماخذات سے بالکل ہی خارج کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی صدیوں میں جب یونانی کتب کے تراجم شروع ہوئے تو معتزلہ ظہور پزیر ہوئے جنہوں نے ہر چیز کو ہی عقل کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کیا چناچہ معجزاتِ انبیاءِ سابقہ بھی بچوں کا کھیل محسوس ہونے لگے مَثلآ عصاۓ حضرت موسیٰ یا بنی اسرائیل کے لیے سمندر کا پھٹنا یا وادی نمل کے قصہ کی معتزلی تفسیر. اس کے ردِعمل میں سوادِاعظم (mainstream) نقل میں غلو کرنے لگا اور جو آیات قرانی اپنے مفہوم میں بلکل واضح بھی تھیں ان کو بھی مابعد طبعی رنگ میں دیکھنے لگے جیسے سوره بقرہ میں حضرت ابراہیم اور چار پرندوں کا قصہ  یا سوره قمر کی پہلی آیت.

دیگر روایات کو قبول کرنے کے لیے بھی تمام پیمانے، جو بالخصوص حنفی فقہاء نے مرتب کیے تھے، بالائے طاق رکھ دیے گئے، نتیجتاً وہ روایتیں جو ابتدائی احناف نے مسترد کر دی تھیں ہمارے حنفی فقہ کی اصل الاصول بن گئیں۔ مثلاً جادو والی  روایت جو ھشام بن عروہ کے دورِاختلاط (Mental Degenration)  میں عراقیوں نے ان کے کان میں پھونکی اور ھشام اس روایت کے لئے بن گئے. امام ابوحنیفہ، امام ابوبکر جصاص، دونوں نے اس روایت کو مسترد کردیا، نہ صرف اس لیے کہ یہ ھشام کے دورِاختلاط کی تھی اور امام ابو حنیفہ جو کہ ہشام کے تلامذہ میں شامل تھے اور اس دور کے عینی شاھد بھی تھے، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ روایت قرآن کی دو سورتوں  (1) بنی اسرائیل اور (2) فرقان سے ٹکرارہی تھی۔ آج امام ابو حنیفہ کا کوئی نام لیوا اس روایت پر سوال اٹھاتا ھے تو اسے معتزلی ھونے کا طعنہ سننا پڑتا ھے.

دوسری روایت حضرت عائشہ کی ٦ سال کی عمر کی ہے. یہ روایت امام زہری (شیعی) کے زرخیز ذہن کی پیداوار ہے. جو ایک اور شیعہ ابو معاویہ ضریر(رافضی) نے ہشام کو اسی  دور اختلاط میں ان کے والد کے حوالے سے سنائی اور ہشام بیچارے اس پر یقین کر کے اس کو اپنے باپ کے حوالے سے روایت کرنے لگے. ہشام سے اس کو روایت کرنے والوں کی اکثریت کوفہ، بصرہ ہی کی ہے. امام زہری حضرت عائشہ کو مضحکہ خیز حد تک کم عمر اس لئے دکھانا چاہتے تھے کہ یہ ثابت کر سکیں کہ حضرت عائشہ نے اپنی زندگی کا سنجیدہ دور نبی کریم کی زیر تربیت نہیں گزارا. اور جنگ جمل میں ان کا کردار اس بات کا غماض ہے.  واضح رہے امام زہری رئیس المدلسین سمجھے جاتے ہیں اور ان کے والد مسلم بن شہاب، شیعہ کمانڈر مختار ثقفی (جس نے مہدودیت اور پھر نبوت کا دعویٰ بھی کیا تھا) کی باغی فوج میں شامل ہو کر اسلامی حکومت کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے. ابتدائی احناف، جو اس پرآشوب دور کے چشم دید گواہ بھی تھے، کے برعکس تیسری صدی کے احناف نے اس روایت کو بھی بڑی خوش دلی سے قبول کر لیا کیونکہ عباسیوں کا دور شروع ہو چکا تھا.

عباسی خلیفہ مامون رشید، جس کی والدہ خراسانی تھیں، نے اپنے دور میں شیعہ اور معتزلیوں کا رشتہِ مفاد قائم کیا. شیعہ جو کہ اب تک روایت سازی کے دھندے کے ساتھ  ہی وابستہ تھے، نے اب اپنے دین کی اساس عقل پر بھی رکھنا شروع کر دی. یعنی وہ لوگ جو اب تک واضح طور پر مشبہ (Anthropomorphic) تھے، معتزلی فکر کو بھی اپنے مخصوص دین کی بنیاد بنانے لگے. چوتھی اور پانچوی صدی میں جب بنو بویہ کی رافضی سرکار تشکیل پائی تو انھوں نے تقیہ کا لبادہ اتارنا شروع کیا اور یعقوب کلینی نے  اصول کافی لکھ کر سواد اعظم سے علیحدگی کی باضابطہ بنیاد رکھ دی. جعفری فقہ ابھی دورِطفولیت میں ہی تھا.شیعوں نے مشبہ کلامی مذہب کو چھوڑ کر معتزلی کلامی مذہب کو قبول کر لیا اور مشبہ مذہب اہل حدیثوں کو تفویض کر دیا.

شیعہ سنی کی باضابطہ طلاق سے پہلے کا بیشتر پروپیگنڈا لٹریچر سنیوں کو دان کر دیا گیا. اور خود اپنے نئے مذہب کی بنیاد معتزلی اصولوں پر رکھی. نتیجتاً معتزلیوں اور رافضیوں کی مفاد پر مبنی اس رشتہ نے رشتہِ ضرورت کی صورت اختیار کر لی.

سواد اعظم جو معتزلیوں سے پہلے ہی الرجک تھا، اس رشتہ کی وجہ سے مزید متنفر ہو گیا. اور اس چیز نے اس کو عقل سے مزید دور اور نقل میں مزید پیوست کر دیا. آج امت کی اگر اصلاح کرنی ہے تو ہمیں مرض کی حقیقت کو پہلے خود سمجھنا ہو گا اور پھر سمجھانا ہو گا. کیونکہ امتِ وسطیٰ ہونے کی حیثیت سے یہ ہماری ذمہ داری ہے. ابتدائی صدیوں کے شیعوں سے غیر ضروری چشم پوشی نے، ان کی دیومالاؤں کو ہمارے دین کی بنیاد بنا دیا ہے اور اسلام کے خلاف ان کا زہریلا پروپیگنڈا آج حدیث اور تاریخ کے خوشنما عنوانات کے ساتھ ہمارے گلوں سے اتارا جا چکا ہے، قرآن جو حقیقی فرقان تھا اور واقعات کو پرکھنے کی کسوٹی تھی، اس کو بالاۓ طاق رکھ دیا گیا ہے.

زمانہ حال کا اردو دان طبقہ فکری طور پر بلکل بانجھ ہو چکا ہے. اور جب زہن میں اٹھنے والے سوالات کے جواب نہیں ملتے تو شدت پسندی پر اتر اتا ہے. تھوڑا عرصہ پہلے تک جو بیماری دیوبندیوں اور اہل حدیثوں تک محدود تھی اب ممتاز قادری کے بعد بریلویوں میں بھی عود کر آئی ہے. آج سنیوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے کئی بچے، جب اپنی ذہنی الجھنوں کے تسلی بخش جوابات نہیں پاتے تو ان میں سے کوئی صحابہ کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کر کے شیعوں کے ظاہری ایجنڈا کو تقویت پہنچاتا ہے، اور کچھ تو نبی پاکﷺ پر ہی سوال اٹھا کر ملحد بن جاتے ہیں جو کہ شیعوں کا حقیقی ایجنڈا ہے. دور جانے کی کیا ضرورت ہے کہ بھینسا اور موچی اور اس قماش کے دوسرے بلاگرز کے ڈانڈے وہیں جا کر ملتے ہیں. اور انکے لئے شدت سے آواز اٹھانے والے نمایاں چہرے بھی اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں. پاکستان کے مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش دیکھنے لئے Let Us Build Pakistan نامی ویب سائٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے.

اس فکری جمود کو توڑنے کا ایک حل یہ ہے کہ ایک بار ابتدائی صدیوں میں ہونے والے واقعات کی حقیقت کو سمجھا جائے. کس طرح واقعات نے ایک دوسرے کو جنم دیا. معتزلیوں کی عقل پرستی میں غلو، ماموں الرشید کے بعد ان کے اور شیعوں کی بڑھنے والی قربت اور بنو بویہ کی حکومت میں ہونے والی خاموش مفاہمت نے مسلمانوں کو کس طرح سے ایک گھن چکر کا شکار کر دیا ہے.

اس تمام تفصیلی بحث کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس سلسلے میں اب سنجیدہ نوعیت کی کوشش کی جائے، بہت سا معتزلی لٹریچر جو کہ ان پر شیعیت کا رنگ چڑھنے سے پہلے کا ہے، ہماری ادراک میں نئی جہت پیدا کر سکتا ہے. اس سے مراد یہ نہیں کہ معتزلی اپنے نظریہ میں صحیح تھے، اکثر و بیشتر وہ صحیح نہیں تھے، مگر ان کی تحریریں پڑھ کر ہماری نئی نسل عقل کو بھی دین کے ماخذات میں سمجھنے پر غور کرنا شروع کر سکتی ہے.

شام میں غیر ملکی دہشت گرد: ایرانی، افغانی اور پاکستانی

سنی دہشت گردوں کی گھر واپسی پر تو بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے لیکن پاکستانی اور افغانی شیعہ دہشت گردوں کے بارے میں بہت کم توجہ دی گئی ہے. اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کے افغانی اور پاکستانی شیعہ دہشت گرد حزب الله کے جھنڈے تلے لڑ رہے ہیں (لیکن مترجم کے نزدیک اس کی زیادہ بڑی وجہ یہ ہے کے پاکستانی میڈیا پر شیعہ کا مکمل کنٹرول ہے اور ایران اور شیعہ کی دہشت گردانہ کاروائیوں پر کوئی لفظ پاکستانی میڈیا میں نہیں انے دیا جاتا. اگر اتا بھی ہے تو ایک برادر ملک یا اس قسم کے اس قسم کے مبہم الفاظ کے ذریعے ڈھانپ دیا جاتا ہے لیکن جہاں پر شیعہ کو مظلوم دیکھانا ہوتا ہے وہاں پر ان کو شیعہ بار بار بیان/لکھا جاتا ہے.

فاطمیوں بریگیڈ، حزب الله کی وہ بریگیڈ ہے جو صرف افغانی شیعہ دہشت گردوں پر مشتمل ہے. اس وقت ایک اندازے کے مطابق ١٠ ہزار سے ٢٠ ہزار تک افغانی شیعہ حزب الله کے جھنڈے تلے لڑ رہے ہیں. اب تک افغان شیعہ دہشت گردوں نے اس کی ایک بھاری قیمت بھی ادا کی ہے. اور تقریباً ٧٠٠ کے قریب افغان شیعہ دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں. ان افغان شیعہ دہشت گردوں کی اصل تعداد معلوم کرنے میں بڑی دشواری یہ ہے کے اکثر اوقات ان کے مرنے پر ان کی لاش کو واپس نہیں حاصل کیا جاتا اور وہیں چھوڑ دیا جاتا ہے.

اگرچہ پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کی اصل تعداد معلوم نہیں کی جا سکتی لیکن ایک بات واضح ہے کے ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے. پہلے جب ان کی تعداد کم تھی تو پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کو دوسرے یونٹس میں ڈال دیا جاتا ہے اب جب کہ ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا ہے تو ان کا اپنا یونٹ زینبیوں بریگیڈ  بنا دیا گیا ہے. (مترجم کے خیال میں اس سے ظاہر ہوتا ہے کے پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کی تعداد بھی ہزاروں میں پہنچ چکی ہے). ابھی تک ٢٠ پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کا جنازہ ہو چکا ہے لیکن پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کے مرنے کی صحیح تعداد اندازہ لگانا نا ممکن ہے. (واضح رہے  بہت سے پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کی نماز جنازہ ایران میں بھی ادا کی جاتی رہی ہے )

اس سے یہ بات واضح ہے کے اس وقت شام میں پاکستانی اور افغانی شیعہ دہشت گردوں کی تعداد داعش میں شامل مغربی دہشت گردوں سے بہت زیادہ ہے.

اس میں اہم بات یہ ہے کے ان شیعہ دہشت گردوں کو بھیجنے والا ایران ہے. کیونکہ افغانی اور یہ پاکستانی سخت جان ہوتے ہیں اس لئے ایران ان کو اچھی تنخواوں پر لے کر شام بھیجتا ہے. اور اگر یہ لڑنے سے انکار کرتے ہیں تو ان کو دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں. شام میں لڑنے کے عوض ان کو ایران کی شہریت کی بھی لالچ دی جاتی ہے. ان لوگوں کو لڑنے پر آمادہ کرنے کے لئے شیعہ کے مقدس مقامات کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے.

یہاں پر یہ بات بھی ذہن میں رہے کے ایرانی، شیعہ دہشت گردوں کو پاکستان اور افغانستان کے اندر سے بھی بھرتی کر رہے ہیں اور اس میں صرف وہ لوگ شامل نہیں جو کسی وجہ سے پاکستان اور افغانستان چھوڑ کر ایران بھگ گئے ہیں. ایک جرمن صحافی نے یہ بھی بتایا کے یہ بھرتیاں ایرانی سفارت خانے کے تعاون سے ہو رہی ہیں اور ایرانی سفارت خانہ ان لوگوں کے وزٹ ویزا کا اہتمام کرتا ہے. ہر مہینے سینکڑوں شیعہ دہشت گردوں کو وزٹ ویزا مہیہ کیا جاتا ہے. اس کے علاوہ پاکستان میں اردو ویب سائٹس بھی بنائی گئی ہیں اس قسم کی بھرتیوں کے لئے. مزید تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کے دہشت گردوں کی زیادہ تعداد غیر قانونی ایران میں مقیم پاکستانی اور افغانیوں کی نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان میں رہنے والے شیعہ دہشت گردوں کی ہے. اس کے علاوہ ایرانی، پاکستان اور افغانستان میں حزب الله کی باقاعدہ تنظیم کھولنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے تاکہ وہ ان علاقوں میں اپنے اثر و رسوخ کو پھیلا سکے.

جیسے جیسے شیعہ دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے مستقبل میں پڑنے والے خطرات اور خدشات مزید خطرناک ہوتے جا رہے ہیں. یہ کچھ بعید از قیاس نہیں کے جب یہ شیعہ دہشت گرد واپس اپنے ملکوں میں جایئں گے تو ایرانی دہشت گردی اور ایران کے مذموم مقاصد کو مزید وسعت دیں گے.

شکریہ: انٹرنیشنل انٹرسٹ

Link: http://nationalinterest.org/feature/syrias-other-foreign-fighters-irans-afghan-pakistani-14400

Is Pakistan next war going to be with Iran?

When muslims migrated from Makkah to Medinah, their initial wars were with the Quraish of Makkah. But after ghazwa khandaq quraish realised that they cannot win. So they decided not to fight any more. But the jews of the medinah and surrounding never stopped conspiring against the muslims of Medinah. So Prophet (PBUH) has to go to khyber to end their resistance.

 

Since the creation of Pakistan India has been our known and open enemy. We had fought multiple wars with India and India leave no chance in harming Pakistan. But we have another very hidden and dangerous enemy and that is Iran. Since 2002 India has a pact with Iran in which Iran will support India in war, and it goes without saying whom Pakistan have fought wars.
https://twitter.com/HKParas/status/595658354292305920

Iran is also the one who tried to get our nuclear program rolled back but Alhamdulillah Allah protected it. But now with the deal between west and iran, iran is becoming very aggressive. According to the deal Iran will be allowed to self inspect itself. What is the use of that inspection?

Iran forces are actively engaged in Syria, Iraq, Yemen and their army majors are getting killed in these foreign country wars and nobody is raising any criticism on it.

 

Pakistan is receiving only US $50 billion from China for which the Pakistanis are making it the biggest achievement. On the other hand Iran is getting US $150 billion. Yes it is ONE HUNDRED AND FIFTY BILLION AMERICAN DOLLARS for just signing the treaty.

 

and what Iran is going to do with this money, its going to buy lot of weapons, weapons of mass destructions also. Iran is already placing big orders with the world arms manufacturers.

This is the largest order for Russia also and we have to remember that India mostly buys from Russia lot of weapons but this order is bigger than what India usually buy one time.

 

On the other hand Indian Naval War Fleet is in Iran on a friendly visit.

Also America is expecting better relationship between USA and Israel after Iran Deal. Why is it so?

and

Connecting these dots give us a very horrifying picture. But the braves are only those who decide to take on the horror. Unfortunately our media is totally under the control of the west and Iran and its not going to report anything against the hands that feed it. But if we don’t open our eyes i think we will be surprised by this western neighbor and even the independent media says that Pakistan’s bloody sectarianism has its root in Iran’s Islamic Revolution of 1979.

We do need to remember also that Iran has also crossed our borders and killed our soldiers in past, when it was under so called sanctions.

In 1971 war we lost half of Pakistan waiting for the 7th fleet of our great ally America. Today we have to remember that we should not lose another part of ours on the promises of another so called friend because in the world politics nobody is your friend if you are not your own friend.

So it is important that we make contract, bring investment but also protect our borders and integrity and define our foreign policy keeping in view our own interest. We should remember that we have a large consumer population which every country is interested in capitalizing on. But its our duty only and exclusively to protect our own interests.

In the end even the Intelligence experts believe that the Iranian Nuclear deal is going to escalate Iranian terrorism in the region

the truth is summarized in just one tweet