الطاف حسین نے پاکستان کے دشمنوں کو بے نقاب کر دیا

پچھلے دنوں الطاف حسین نے ایک ایسی تقریر کی جس نے تمام محب وطن پاکستانیوں کو دلی تکلیف پہنچائی. اس تقریر کے بعد ایم کیو ایم کو الطاف حسین سے لا تلقی کا اعلان بھی کرنا پڑا اور ملک کی تمام جماعتوں اور مکتبہ فکر کے لوگوں نے اس تقریر کی پر زور الفاظ میں مذمت بھی کی.

لیکن اس تقریر کا ایک خوبصورت پہلو یہ نکلتا ہے کہ اس تقریر میں الطاف حسین نے اپنی روانی میں پاکستان کے تمام دشمنوں کو بے نقاب کر دیا. وہ اس طرح کہ جب انھوں نے پاکستان کو توڑنے کی بات کی تو ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی بتا دیا کہ کن کن ممالک سے اس سلسلے میں مدد مانگی جائے گی.

ان ٤ ممالک میں سے تین کے بارے میں تو سب پاکستانیوں کو پہلے سے ہی معلوم ہے. انڈیا اور خاص طور پر مودی کا انڈیا تو پاکستان کو ہر ممکن تکلیف پہنچانے میں ہر پوری طاقت سے مصروف ہے. اس سلسلے میں مودی نے ابھی آزادی کی تقریر میں بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کا اعتراف بھی کیا ہے.  اس کے بعد افغانستان ہے جو آج کل انڈیا اور امریکا کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے . اور اس کے بعد اسرائیل کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں.

لیکن جس چھوتھے ملک کا ذکر الطاف حسین نے کیا وہ بہت ہی سنسنی خیز ہے. وہ ہے ایران. اگرچہ پاکستان کے میڈیا میں ایران کا نام کبھی بھی کسی منفی پہلو میں نہیں لیا جاتا لیکن پچھلے ٦، ٧ ماہ میں پے در پے ایسے واقعات ہوۓ ہیں جن سے نظریں چرانا ناممکن ہے. بلکہ نظریں چرانا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے

پچھلے دنوں جو بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو جو ملا وہ براستہ ایران آیا تھا. اس سلسلے میں نہ صرف بھارت کا ایران میں ایک سیٹ اپ ہے بلکہ ٹریننگ سینٹر اور پناہ گاہیں بھی ہیں. اور یہ کام ایران کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا. اس کے بعد پاکستان نے ایران سے باقاعدہ درخواست کی کلبھوشن یادو کے ساتھیوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں

اس کے علاوہ پچھلے کچھ عرصہ ایران مسلسل پاکستان میں نہ صرف حملے کر رہا ہے بلکہ پاکستان کی خودمختاری کو بھی بلائے طاق رکھ رہا ہے. اس سلسلے میں ہمارا میڈیا بھی بلکل خاموش ہے اور اگر آپ ٹویٹر پر کسی صحافی سے اس بارے میں پوچھیں گے تو وہ آپ کو بلاک کر دے گا. لیکن آنکھیں بند کرنے سے حالات بہتر نہیں ہو جائیں گے

ایران ہی تھا جس نے ہمارے اٹمی پروگرام کو روکنے کی کوشش کی اور ایران ہی آج کل پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک بنا کر پیش کرنے میں بھارت کے ساتھ ہم آہنگ ہے. اس سلسلے میں ایران امریکا کو بھی پاکستان کے خلاف پابندیاں لگانے کا کہ رہا ہے

اس کے علاوہ ایران نے حال ہی میں انڈیا کے ساتھ ایک مشترکہ دشمن کے خلاف ایک اتحاد بھی بنانے کا عندیہ دیا ہے اور یہ مشترکہ دشمن پاکستان ہے. یہ ایک بہت بڑی خبر تھی لیکن کسی چینل نے اس کو اہمیت نہیں دی

حال ہی میں ایران میں کشمیریوں کے حق میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے ایک مظاہرے کو بھی ایران نے روک دیا. جب کہ اسی ایران میں کچھ عرصہ پہلے ایک مظاہرے میں ایک اور اسلامی ملک کا سفارت خانے پر حملہ کیا گیا تھا. لیکن تب ایسا کچھ نہیں کیا گیا

اس سے پہلے اس سال کے آغاز میں عزیر بلوچ نے بھی کہا تھا کہ ایران پاکستان میں تخریبی کاروائیوں اور بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں ملوث ہے لیکن میڈیا میں اس خبر کو بھی غائب کر دیا گیا تھا

ایران نے پاکستان میں علیحدگی پسندوں کی نہ صرف مالی معاونت کی ہے بلکہ ان کو نقل و حمل کے ذرائع بھی.

CmN-1ShWIAAqcwQ

اس سلسلے میں یہ بھی یاد رہے کہ طالبان لیڈر کی ہلاکت کے وقت وہ ایران سے ہی بلوچستان آ رہا تھا. جس وقت امریکی ڈرون نے اس کو نشانہ بنایا

آخر کب تک ہم اپنے اپ کو دھوکہ دیتے رہیں گے؟

عزیر بلوچ کے انکشافات اور ہمارا میڈیا

میں ان صفحات میں ایک عرصہ سے لکھ رہا ہوں کے امت مسلمہ کے لئے سب سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں صرف ایران ہے. یہ ایران ہی تھا جس نے حضرت عمرؓ کو قتل کر کے اسلام کو پھیلنے سے روکنے کی پہلی کوشش کی. (اس کے بارے میں مزید تفصیل ادھر دیکھیں). اور پھر یہ ساسانی سلطنت سے اۓ ہوۓ دہشت گرد تھے جنھوں نے مدینہ کا محاصرہ کر کے خلیفہ المسلمین زوالنورین حضرت عثمانؓ کو شہید کیا اور ایک ایسا فتنہ شروع کیا جس کو ہم آج تک جھیل رہے ہیں. کیا یہ سازشیں اسلام کو ختم کرنے کے لئے نہیں تھیں؟ بلکل. یہ حب علیؓ نہیں بلکہ بغض اسلام تھا اور اسلام کو نیست و نابود کرنے کی ایک کوشش تھی

جیسا کہ حضرت عثمانؓ جن کے خون کے قصاص کی بیعت نہ صرف الله کے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ٦ ہجری میں تمام صحابہ سے لی تھی بلکہ اس پر الله نے اپنی رضامندی اور خوشنودی کا بھی اظہار کیا اور اسی لئے اس کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے. تو جس قوم نے اس جلیل قدر صحابی اور داماد رسول (صلى الله عليه وسلم) کو شہید کیا تو کیا ہمیں اس پر کوئی شک ہونا چاہیے کہ وہ قوم در حقیقت اسلام کو ہی ختم کرنے کے در پے ہے اور ہمیشہ سے رہی ہے

اس مناسبت سے میں نے انہی بلاگز میں نے یہ بھی بتایا تھا کے شیعہ جن کو اپنے پانچ بڑے شہید کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے سنی مسلمانوں کو کسی نہ کسی طرح راہ راست سے ہٹایا یا کوئی فتنہ سنی مسلمانوں میں ڈالا. اسی طرح مسلمانوں میں جتنے مشہور غدار گزرے جنھوں نے اسلام کو ذک پہنچائی چاہے وہ ہندوستان میں میر صادق یا میر جعفر ہوں یا بغداد میں ہلاکو خان کی مدد کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی یا حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرمطی ہو یا صلیبیوں کی مدد کرنے والا احمد بن عطا ہو وہ سب کے سب شیعہ ہی ہیں. کیا یہ سب کوئی اتفاق تھا؟ دنیا حرب میں کہا جاتا ہے کہ اتفاق کسی چیز کا نام نہیں

یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ شیعہ پروپیگنڈا کی دنیا میں بہت کامیاب ہیں. وہ حضرت عمرؓ کے قاتل کو اپنا ہیرو بنا کر بھی ہم کو اپنا بھائی بنا لیتے ہیں. حضرت علیؓ کو شہید کر کے اور حضرت حسن کو زخمی کر کے بھی اپنے آپ کو شیعان علی بھی منوائے رکھتے ہیں. اپنے کلمہ کو علیحدہ کر کے اور الله پر غلطی ہو جانے کا الزام لگا کر بھی خود کو مسلمان بنائے رکھے ہیں. اس پروپیگنڈا کی کامیابی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ میڈیا میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں. آج بھی کوئی پاکستانی میڈیا ایران کا نام کسی منفی خبر کے ساتھ نہیں لے گا اور کوئی بھی بڑا صحافی بھی ایران کا نام کسی منفی خبر بریک نہیں کرے گا

اسی لئے بہت سی اہم خبریں جو کہ بریکنگ نیوز بنتیں اگر بھارت میں کوئی ایسی بات کرتا ہمارے میڈیا میں ائی ہی نہیں. جیسے ایران کے پاسداران انقلاب کے اعلی عہدیدار نے اقرار کیا کہ ایران نے ٢ لاکھ جنگجو پاکستان، افغانستان اور دیگر ممالک میں تیار کر لئے ہیں. اس سے پہلے ایران کے ایک حکومتی عہدیدار نے کہا تھا کہ ہم اپنے ہمسایہ میں ١٥ ممالک کی حکومتوں کو گرا کر شیعہ یا شیعہ ہمدرد حکومتیں لانا چاہتے ہیں. تو عزیر بلوچ کے انکشافات حیران کن نہیں ہونے چاہیے کہ ایران بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں ملوث ہیں. اور بلچستان میں علیحدگی پسندوں کو لیاری میں پناہ دی. اس کے علاوہ کراچی میں بھی کالعدم تنظیموں کو پناہ دینے کا اعتراف کیا اور کراچی میں حالات کو خراب رکھنے میں ملوث ہے. اسی لئے ایران کے انٹیلی جنس کے اعلی افسر عزیر بلوچ کو دبئی سے ایران بچا کر لے جانے کی کوشش میں رہے

کل یہ مضمون میں نے سیاست داٹ پی کے، کے  انٹرنیشنل ڈسکشن کے فورم پر ڈالا تھا. اور رات کو دیکھا تو میرے ٹاپک کو ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا اور ایڈمنسٹریٹر کی طرف سے کوئی میسج بھی نہیں ملا. اسی طرح زم تی وی داٹ کام پر بھی اس کو ڈالا لیکن ایڈمنسٹریٹر نے منظور نہیں کیا؟ تو کیا جو باتیں میں نے کہی ہیں اس مضمون میں وہ سچ ہیں؟ خود فیصلہ کر لیں. دلائل کے جواب میں دلائل نہ ہوں تو زبان بند کر دی جاتی ہے. یہ ہمیشہ سے صاحب استطاعت کا دستور رہا ہے

ایران کا پاکستان سمیت پانچ ممالک میں ٢ لاکھ جنگجو تیار کرنے کا اقرار

ایران کے سرکاری ذرائع نے پہلی دفعہ ایرانی مسلح نوجوانوں کی دہشت گردی کی تربیت کا اقرار کیا ہے. یہ اقرار ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر، محمّد علی جعفری نے کی ہے. انھوں نے کہا کہ یہ مسلح انقلابی نسل ہے جو شام، عراق، افغانستان، پاکستان اور یمن میں خونی انقلاب کی بنیاد ڈالے گی.

جعفری نے یہ سب حامد رضا اسداللہ کے جنازہ پر کہا، جو پاسداران انقلاب کے راہنما تھے اور شام میں ہلاک ہوۓ تھے. جعفری نے مزید کہا کے شام اور مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے واقعات کا فائدہ یہ ہوا ہے کے ایران کو تقریباً ٢ لاکھ جنگجو  شام، عراق، افغانستان، پاکستان اور یمن میں تیار کرنے کا موقع مل گیا ہے.

جعفری نے مزید کہا کے یہ  جنگجوؤں کی تیسری نسل ہے جو تیار کی ہے جو ایران کے پاسداران انقلاب کی مدد کرے گی مستقبل میں. انھوں نے شیعہ  جنگجوؤں کی شام، عراق اور یمن میں موجودگی کی اہمیت پر بھی بات کی. ایران کے پاسداران انقلاب ایران سے باہر قدس فورس کے ذریعہ کام کرتی ہے جو جنرل قاسم سلیمانی کے ما تحت کام کرتی ہے. پاسداران انقلاب کی اپنی کوئی فوج نہیں ہے مگر یہ ضرورت کے حساب سے جنگجوؤں کو تیار کرتی ہے اور دہشت گردی کے لئے روانہ کرتی ہے.

پاسداران انقلاب کی فوج کے چار حصے ہیں. زمینی فوج، ہوائی فوج، بحری اور میزائل فوج. حال ہی میں ایک ایرانی امور کے ماہر نے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب نے ایک پانچویں فوج بھی بنائی ہے جو کہ الیکٹرانک، انٹیلی جنس اور ثقافتی ڈیٹرنس فورس ہے.

ماہر نے مزید بیان کیا ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب شام میں فوجی مشیروں کے ذریعہ کام کر رہا ہے جو کہ شام میں دہشت گردی کی کاروائیوں کی نگرانی آپریشن روم سے کر رہے ہیں. پاسداران انقلاب کے جو جنگجو شام کی حکومت کی مدد  کے لئے جا رہے ہیں وہ تجربہ کار مشیر ہیں اور اس قسم کی کاروائیوں کی پہلے بھی نگرانی کر چکے ہیں.

شکریہ الاوسط

ہمارے معاشرے میں عشق رسول کا معیار

پچھلے دنوں پاکستان میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں ایک بچے نے اپنا ہاتھ اس لئے کاٹ لیا کہ اس کو لگا کہ اس سے نبی پاک(ص) کی شان میں گستاخی ہو گئی ہے. اس واقعہ پر دو قسم کے رد عمل دیکھنے میں آ رہے ہیں. ایک وہ لوگ جو بچے کے عمل کو حب رسول کی مثال کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو اس عمل کو پیش کر کے اسلام کی سخت گیری اور غیر انسانیت پر تنقید کر رہے ہیں

جب کہ حقیقت میں دونوں ہی ردعمل اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے. اسلام اعتدال کا مذہب ہے. اسلام نے تو واضح کیا ہے کہ توبہ اور مغفرت کا دروازہ ہر انسان کے لئے اس کی موت تک کھلا ہوا ہے اور الله بھی کہتا ہے کہ انسان ایک قدم اس کی طرف بڑھاتا ہے تو وہ الله دس قدم اس کی طرف اتا ہے. اگر اس بچے سے دانستہ یا نا دانستہ ایک غلطی سرزد ہو گئی تھی تو اس بچے کو بتایا جانا چاہیے تھا کے اس کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور الله بہت رحیم اور کریم ہے. اور ہاتھ کاٹنے کا عمل کسی بھی صورت میں حب رسول کا آئینہ دار نہیں ہے. بلکہ اصل حب رسول تو الله کے نبی کی سنت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا ہے. جہاں ایک جانب اس وحشیانہ طرز کے خود ساختہ حب رسول کے طریقے کو سراہنے والے بڑی تعداد میں ملیں گے دوسری جانب اسی افسوسناک واقعہ کی آڑ لے کر لبرل فاشسٹ  دین کے خلاف محاظ کھول چکے ہیں.

بجائے اس کے کہ حکومت بچے کو نقص امن اور خوف کی دفعات کے تحت گرفتار کرتی اس نے عوامی ردعمل کے خوف سے مولوی کو گرفتار کر لیا. حالانکہ اس معاملے میں جتنا مولوی قصوروار ہے اتنا ہی ہمارا یہ معاشرہ بھی قصور وار ہے. جس میں فرضی شخصیات کے فرضی واقعات کو، مثلا اویس قرنی کے حب رسول میں اپنے تمام  دانت  توڑ لینے کو حب رسول کا اعلی ترین معیار بتایا جاتا ہے، وہاں اس نوعیت کے واقعات کا ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہونی چاہیے. مولانا جامی جیسے عظیم مفکر نے بھی یہ شعر کہہ دیا

در عشق تو دندان شکست است بہ الفت
تو جامہ رسا نید اویسِ قرنی را
ترجمہ: آپ کی محبت اور الفت میں میرا دانت ٹوٹ گیا
آپ کی محبت میں اپنے آپ کو اویس قرنی سمجھ رہا ہوں

اگر حب رسول کا یہی معیار تھا تو آپ(ص) کے ساتھ حضرت علی، حضرت عمار، حضرت سلمان، حضرت ابو بکر جیسے قریبی اور ہر مشکل میں ساتھ دینے والے ساتھیوں نے یہ طرز عمل اخر کیوں نہیں اختیار کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ اویس قرنی نامی کوئی شخصیت کا کوئی حقیقی وجود تھا ہی نہیں. دوسری صدی ہجری میں عراقیوں نے اپنے خاص مقاصد کے تحت اس شخصیت کے بت کو تراشا اور اس کا چرچہ کیا. امام مالک نے عراق میں مقیم یمنی الاصل قبیلہ کے لوگوں سے پوچھا بھی کہ اویس قرنی کون تھا تو اس قبیلہ والوں نے کہا کہ ہمارے درمیان ایسا کوئی فرد کبھی نہیں تھا. پروپیگنڈا کا کمال یہ ہے کہ ہمارے ہاں حدیث کی ایک بڑی کتاب میں بھی ان کا نام اور مناقب آ گئے ہیں

اگر کوئی ایسا محب رسول شخص اس وقت یمن میں ہوتا تو اسکو معلوم ہوتا کہ اس وقت مدینہ کی طرف ہجرت کرنا فرض تھا. حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابو ہریرہ خود یمنی تھے اور انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اویس نام تو عرب میں اس زمانے میں موجود ہی نہیں تھا. اسی لئے صحابہ کی کسی کتاب میں اویس نامی کوئی شخص موجود ہی نہیں ہے. اویس کے اصل معنی بھیڑیے کے ہیں. اور قرن پھاڑ کو بھی کہتے ہیں. گویا اویس قرنی کا مطلب ہوا پہاڑی بھیڑیا ہے. یہ اہل بابل (عراق) کے ایک دیوتا کا نام ہے. عراقیوں نے اپنے اس دیوتا کو ایک صحابی کا روپ دے کر اسلام میں داخل کر دیا اور اس سے منسوب سنّت گریز واقعات، جیسے دانت توڑ لینا، جماعت کی نماز نہ پڑھنا کو اسلام کے اعلی معیار کے طور پر پیش کیا

یہ تو صرف ایک فرضی شخصیت سے منسوب فرضی کہانیاں ہیں لیکن ہماری تاریخ ایسے بہت سے فرضی واقعات جو اصلی شخصیات سے منسوب ہیں اور جو سنت رسول اور اسلامی عقائد سے براہ راست متصادم ہیں، سے بھری پڑی ہے. ان واقعات نے اسلام کی روح اور عقائد کو مسخ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور غیروں کو اسلام پر طنز کرنے کا بے شمار موقع فراہم کیے ہیں

شکریہ عمر چیمہ

پچھلے کچھ عرصہ سے داعش کے نام خبروں میں تواتر سے ا رہا ہے اور پاکستان کے حوالہ سے بھی شکوک و شبہات پیش کیے جا رہے ہیں. لیکن مرے لئے برا مسئلہ یہ تھا کے اخر یہ ہے کون اور ان کے ایک دم سے وجود میں انے کی وجہ کیا بنی؟

اگر ہم داعش کے مقبوضہ علاقوں کو دیکھیں تو یہ سارے کے سارے سنی اکثریت کے علاقے ہیں. اور داعش کے مظالم بھی ان ہی علاقوں میں ہوۓ ہیں. ویسے تو داعش کو سنی دہشت گردی کی تحریک کہا جاتا ہے مگر اس کے مظالم اور فتوحات بھی سنی علاقوں میں ہی ہے. پھر اس کے بعد مجھے کچھ یو ٹیوب کی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جن میں بتایا گیا ہے کہ داعش کا انگریزی مخفف ائی ایس ائی ایس اصل میں اسرائیلی سیکرٹ انٹیلی جنس سروس کا مخفف ہے. پھر اس میں مزید معلومات بھی ہے.
https://youtu.be/zd6-XCE8-6M

لیکن میڈیا میں ہمیشہ داعش کو سنی مسلمانوں کی انتہا پسند تنظیم ہی بتایا گیا اور ایسا بتایا گیا جیسے کے عراق میں سنی مظالم کے ردعمل میں یہ وجود میں ائی ہے. لیکن پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کے اگر یہ عراقی شیعہ حکومت کے ردعمل میں ائی ہے تو پھر اس کے سارے مظالم سنیوں کے خلاف کیوں ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ سعودی عرب اور دوسرے ممالک جہاں اس نے کروائی کی ہے وہاں بھی سنی حکومتیں ہیں اور ایران جو شیعہ حکومت کا سب سے بڑا مددگار ہے وہاں اس نے کوئی کروائی نہیں کی.

پھر مزید تحقیق تو کو معلوم ہوا کہ شام میں بھی داعش کی زیادہ مدد اسد حکومت کو گئی کہ جو علاقے اسد حکومت کے ہاتھوں سے نکل کر وہاں کی آزادی پسند تنظیموں کے ہاتھوں میں تھے ان پر داعش نے قبضہ کر لیا.

اگر داعش واقعی میں شیعوں کے خلاف تھی تو اس کو تو وہاں پر موجود سنی تحریکوں کے ساتھ مل کر اسد حکومت کے خاتمہ میں مدد کرنی چاہیے تھی نہ کہ اسد حکومت کے خلاف سنی تحریکوں کے ساتھ لڑ کر ان سنی تحریکوں کو کمزور کرتی

لیکن اب عمر چیمہ کے آرٹیکل کو پڑھ کر داعش کی بارے میں مجھے تصویر کو مکمل کرنے میں مدد ملی. عمر چیمہ نے لکھا کے لاہور سے داعش میں شامل ہونے کے لئے خواتین اور بچے کویٹہ پہنچے اور وہاں سے براستہ ایران انھوں نے داعش میں شامل ہونا تھا.
http://www.thenews.com.pk/print/85370-20-men-women-children-from-Lahore-join-Daesh-go-to-Syria

پہلی بات تو یہ کہ ایران کوئی چھوٹا سا ملک نہیں ہے اور وہاں پر سنیوں کے خلاف زبردست مخاصمت پائی جاتی ہے. تو ایک سنی جو بظاھر ایران کے خلاف لڑنے شام جا رہا ہے (یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اسد کی حکومت ایران ہی چلا رہا ہے اور ایران کی وجہ سے ہی اسد اپنی حکومت کو بچائے ہوۓ ہے) وہ ایران سے ہو کر جائے گا اور اس کے بعد عراق سے گزرے گا جو خود ایران کے زیر تسلط ہے. ایران کے لوگ عراق میں بغیر ویزا کے آ جا رہے ہیں.

اصل میں حقیقت صاف ہو جاتی ہے اگر انسان میڈیا کی خبروں کو دماغ کھول کر سنے. عراق اور شام میں شیعوں کی حکومتیں سنیوں کے خلاف محاذ آرائی کی وجہ سے کمزور ہو چکی تھیں اور ان کے گرنے کا اندیشہ ہی نہیں بلکہ گرنا حتمی ہو چکا تھا تو ایسے موقع پر سنیوں کی توجہ بٹانے کے لئے اور شیعہ کی غیر فعال حکومت کے لئے ہمدردی سمیٹنے کے لئے ایران اور اسکے ہمنواؤں نے ایک تحریک شروع کی داعش کے نام سے اور اب سارا میڈیا اس داعش کی خبریں دینے میں لگا ہوا ہے اور اسد کے مظالم کے لئے کسی کے پاس کوئی وقت نہیں

اور سنی خود بھی الجھن کا شکار ہو گئے ہیں. شام اور عراق میں شیعوں کو مکمل اختیار ہے اور وہاں کا خطہ بھی افغانستان کی طرح بہت زیادہ پہاڑوں اور غاروں سے بھرپور نہیں تو پھر داعش کو جدید اسلحہ اور سازو سامان کہاں سے مل رہا ہے؟ یہ سازو سامان حکومت کی مدد کے بغیر نہیں مل سکتا

 اور یہ بھی یاد رکھیں کے جب جب شام کی آزادی پسند تنظیمیں داعش کے خلاف لڑنے نکلیں تو روس نے ان لوگوں کے خلاف بمباری کی جو کہ  داعش کے خلاف لڑ رہے تھے.

ہم بے حیا قوم ہیں

:ایک شیعہ عالم کی حق بات نے زلزلہ برپا کر دیا ہے
الجزیرہ عربی کے پروگرام” اتجاہ معاکس” کے اینکر پرسن “ڈاکٹر فیصل قاسم” نے کہا ہے کہ :” عراق کے مشہور شیعہ عالم دین اور راہنما مقتدی الصدر کے معاون نے ایک مضمون لکھا ہے جس کا نام ہے “ہم بے حیا قوم ہیں” مضمون میں مندرجہ ذیل حقائق پر روشنی ڈالی ہے

شام،عراق اور فارس کو فتح کرنے والا عمر بن الخطاب (سنی ) تھے۔
سند ،ہند اور ماوراء النہر کو فتح کرنے والا محمد بن قاسم (سنی) تھے۔
شمالی افریقہ کو فتح کرنے والا قتیبہ بن مسلم(سنی) تھے۔
اندلس کو فتح کرنے والا طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر دونوں(سنی ) تھے۔
قسطنطینیہ کو فتح کرنے والا محمد الفاتح( سنی) تھے۔
صقلیہ کو فتح کرنے والا اسد بن الفرات(سنی) تھے۔
اندلس کو مینارہ نور اور تہذیبوں کا مرکز بنانے والی خلافت بنو امیہ کے حکمران (سنی)تھے۔
تاتاریوں کو عین جالوت میں شکست دینے والا سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس دونوں(سنی) تھے۔
صلیبیوں کو حطین میں شکست دینے والے صلاح الدین ایوبی(سنی) تھے۔
مراکش میں ہسپانویوں کا غرور خاک میں ملانے والا عبد الکریم الخطابی (سنی) تھے۔
اٹلی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے عمر المختار (سنی) تھے۔
چیچنیا میں روسی ریچھ کو زخمی کرنے اور گرزنی شہر کو فتح والے خطاب (سنی) تھے۔
افغانستان میں نیٹو کا ناگ زمین سے رگڑنے والے (سنی )تھے۔
عراق سے امریکہ کو بھاگنے پر مجبور کرنے والے ( سنی تھے)۔
فلسطین میں یہودکی نیندیں حرام کرنے والے (سنی) ہیں۔

ہم اپنے بچوں کو کیا بتائیں گے؟؟!!

حسین کو عراق بلا کر کربلاء میں بے یارومدد گار چھوڑنے والے مختار ثقفی (شیعہ) تھے۔
عباسی خلیفہ کے خلاف سازش کر کے تاتاریوں سے ملنے والے ابن علقمی (شیعہ )تھے ۔
ہلاکوخان کا میک اپ کرنے والے نصیر الدین طوسی (شیعہ) تھے۔
تاتاریوں کو بغداد میں خوش آمدید کہنے والے(شیعہ) تھے۔
شام پر تاتاریوں کے حملوں میں مدد کرنے والے(شیعہ) تھے۔
مسلمانوں کے خلاف فرنگیوں کے اتحادی بننے والے فاطمیین( شیعہ) تھے۔
سلجوقی سلطان طغرل بیگ بساسیری سے عہد شکنی کرکے دشمنوں سے ملنے والے(شیعہ) تھے۔
فلسطین پر صلیبیوں کے حملے میں ان کی مدد کرنے والا احمد بن عطاء(شیعہ) تھے۔
صلاح الدین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے والے کنز الدولۃ (شیعہ)تھے۔
شام میں ہلاکوں خان کا استقبال کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی (شیعہ) تھے۔
حاجیوں کو قتل کر کے حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرمطی (شیعہ) تھے۔
شام پر محمد علی کے حملے میں مدد کرنے والے ( شیعہ) تھے۔
یمن میں اسلامی مراکز پر حملے کرنے والے حوثی (شیعہ ) ہیں۔
عراق پر امریکی حملے کو خوش آمدید کر کے ان کی مدد کرنے والے سیستانی اور حکیم (شیعہ) ہیں۔
افغانستان پر نیٹو کے حملے کو خوش آئند کہہ کر ان کی مدد کرنے والے ایرانی حکمران (شیعہ) ہیں۔
شام میں امریکہ کی مدد اور بشار سے مل کر لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر نے والے اور خلافت کی تحریک کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کرنے والے عراقی حکمران،ایرانی حکمران اور لبنان کی حزب اللہ (شیعہ) ہیں۔
خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر کے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والا اسماعیل صفوی (شیعہ) تھے۔
برما کے مسلمانوں کے قتل پر بت پرستوں کی حمایت کا اعلان کرنے والا احمد نجاد( شیعہ ) ہے۔
شام کے لوگوں پر بشاری کی بمباری کی حمایت کرنے والا اور اس کو سرخ لکیر قرار دینے والا خامنئی (شیعہ) ہے۔
صحابہ کو گالیا دینے والے اور خلفائے راشدین اور اور امہات المومنین کے بارے میں شرمناک باتیں لکھنے والے قلم (شیعہ) ہیں۔
سلطان ٹیپو کے خلاف انگریز سے ملنے والے میر جعفر اور میر صادق (شیعہ) تھے۔
اگر سارے واقعات لکھے جائیں تو کئی جلدوں کی کتابیں تیار ہو سکتی ہیں، ہم اپنی نسلوں کو کیا جواب دیں گے ؟؟!!
یہ سب خو دایک شیعہ عالم دین اور حق گو آدمی کہہ رہا ہے !!!

Link: 

پرانا لنک ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے. نیا لنک نیچے دیا گیا ہے ہے

4 Pakistani levies injured in an attack, is my prediction coming true?

Few months ago i wrote a blog that “Is Pakistan next war going to be with Iran?” and many people considered it as a non-sense and as a riyal taking blogger. But today Iran attacked Levies in the balochistan and injured 4 of them. Just imagine if it has been done by India or USA or Saudia then how many tweets and reports and breaking news we have got.

This was an unprovoked attack, i have not heard of Pakistan attacking or shelling in Iran ever and also Pakistan levies are too busy protecting Baluchistan from Indian backed Baloch terrorist to attack any other country. But still none of the main Pakistani channel is reporting this, and we dont get any tweet from ISPR also.

Recently Iranian official said that they want to bring friendly regimes in 15 neighboring countries and i think one of the top neighbor is Pakistan. Which is a clear interference in the other countries internal matters.

As i have been saying it for sometime that Iran, Israel and India is a nexus against Pakistan, and with recent Iran Nuclear Deal, Iran is becoming more and more aggressive. Iran is supporting Yemeni terrorist and supplying them arms.

Iran is trying to create an anarchy in Bahrain

Iran involvement in Syria is clear as a sun on a cloudless day.

Lastly but not leastly Iran is the running the government in Iraq

But the strangest thing is that Iran is attacking on Pakistan borders too. Which is really surprising. Because i personally thought that Iran will ignore Pakistan while its busy with Saudia but these events says that Iran is getting full support from India and other nations who wants to destablize Pakistan and also we have to remember that Iran Mehdi army was fully supporting last year dharna in Islamabad and were ready to pounce on any opportunity to create chaos and anarchy in the capital of Pakistan thus giving an excuse for other powers to control or kill Pakistan nuclear capability.

If there are three nations we need to be wary of as Pakistan then they are Iran, India, Israel. If someone still have doubt then they should read this message from #Khamenei

Lastly, i have said it elsewhere too but i will repeat that sectarian violences has been promoted by the Iranian regime and this is the observation of international media outlets.