ایران کا پاکستان سمیت پانچ ممالک میں ٢ لاکھ جنگجو تیار کرنے کا اقرار

ایران کے سرکاری ذرائع نے پہلی دفعہ ایرانی مسلح نوجوانوں کی دہشت گردی کی تربیت کا اقرار کیا ہے. یہ اقرار ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر، محمّد علی جعفری نے کی ہے. انھوں نے کہا کہ یہ مسلح انقلابی نسل ہے جو شام، عراق، افغانستان، پاکستان اور یمن میں خونی انقلاب کی بنیاد ڈالے گی.

جعفری نے یہ سب حامد رضا اسداللہ کے جنازہ پر کہا، جو پاسداران انقلاب کے راہنما تھے اور شام میں ہلاک ہوۓ تھے. جعفری نے مزید کہا کے شام اور مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے واقعات کا فائدہ یہ ہوا ہے کے ایران کو تقریباً ٢ لاکھ جنگجو  شام، عراق، افغانستان، پاکستان اور یمن میں تیار کرنے کا موقع مل گیا ہے.

جعفری نے مزید کہا کے یہ  جنگجوؤں کی تیسری نسل ہے جو تیار کی ہے جو ایران کے پاسداران انقلاب کی مدد کرے گی مستقبل میں. انھوں نے شیعہ  جنگجوؤں کی شام، عراق اور یمن میں موجودگی کی اہمیت پر بھی بات کی. ایران کے پاسداران انقلاب ایران سے باہر قدس فورس کے ذریعہ کام کرتی ہے جو جنرل قاسم سلیمانی کے ما تحت کام کرتی ہے. پاسداران انقلاب کی اپنی کوئی فوج نہیں ہے مگر یہ ضرورت کے حساب سے جنگجوؤں کو تیار کرتی ہے اور دہشت گردی کے لئے روانہ کرتی ہے.

پاسداران انقلاب کی فوج کے چار حصے ہیں. زمینی فوج، ہوائی فوج، بحری اور میزائل فوج. حال ہی میں ایک ایرانی امور کے ماہر نے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب نے ایک پانچویں فوج بھی بنائی ہے جو کہ الیکٹرانک، انٹیلی جنس اور ثقافتی ڈیٹرنس فورس ہے.

ماہر نے مزید بیان کیا ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب شام میں فوجی مشیروں کے ذریعہ کام کر رہا ہے جو کہ شام میں دہشت گردی کی کاروائیوں کی نگرانی آپریشن روم سے کر رہے ہیں. پاسداران انقلاب کے جو جنگجو شام کی حکومت کی مدد  کے لئے جا رہے ہیں وہ تجربہ کار مشیر ہیں اور اس قسم کی کاروائیوں کی پہلے بھی نگرانی کر چکے ہیں.

شکریہ الاوسط

ہمارے معاشرے میں عشق رسول کا معیار

پچھلے دنوں پاکستان میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں ایک بچے نے اپنا ہاتھ اس لئے کاٹ لیا کہ اس کو لگا کہ اس سے نبی پاک(ص) کی شان میں گستاخی ہو گئی ہے. اس واقعہ پر دو قسم کے رد عمل دیکھنے میں آ رہے ہیں. ایک وہ لوگ جو بچے کے عمل کو حب رسول کی مثال کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو اس عمل کو پیش کر کے اسلام کی سخت گیری اور غیر انسانیت پر تنقید کر رہے ہیں

جب کہ حقیقت میں دونوں ہی ردعمل اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے. اسلام اعتدال کا مذہب ہے. اسلام نے تو واضح کیا ہے کہ توبہ اور مغفرت کا دروازہ ہر انسان کے لئے اس کی موت تک کھلا ہوا ہے اور الله بھی کہتا ہے کہ انسان ایک قدم اس کی طرف بڑھاتا ہے تو وہ الله دس قدم اس کی طرف اتا ہے. اگر اس بچے سے دانستہ یا نا دانستہ ایک غلطی سرزد ہو گئی تھی تو اس بچے کو بتایا جانا چاہیے تھا کے اس کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور الله بہت رحیم اور کریم ہے. اور ہاتھ کاٹنے کا عمل کسی بھی صورت میں حب رسول کا آئینہ دار نہیں ہے. بلکہ اصل حب رسول تو الله کے نبی کی سنت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا ہے. جہاں ایک جانب اس وحشیانہ طرز کے خود ساختہ حب رسول کے طریقے کو سراہنے والے بڑی تعداد میں ملیں گے دوسری جانب اسی افسوسناک واقعہ کی آڑ لے کر لبرل فاشسٹ  دین کے خلاف محاظ کھول چکے ہیں.

بجائے اس کے کہ حکومت بچے کو نقص امن اور خوف کی دفعات کے تحت گرفتار کرتی اس نے عوامی ردعمل کے خوف سے مولوی کو گرفتار کر لیا. حالانکہ اس معاملے میں جتنا مولوی قصوروار ہے اتنا ہی ہمارا یہ معاشرہ بھی قصور وار ہے. جس میں فرضی شخصیات کے فرضی واقعات کو، مثلا اویس قرنی کے حب رسول میں اپنے تمام  دانت  توڑ لینے کو حب رسول کا اعلی ترین معیار بتایا جاتا ہے، وہاں اس نوعیت کے واقعات کا ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہونی چاہیے. مولانا جامی جیسے عظیم مفکر نے بھی یہ شعر کہہ دیا

در عشق تو دندان شکست است بہ الفت
تو جامہ رسا نید اویسِ قرنی را
ترجمہ: آپ کی محبت اور الفت میں میرا دانت ٹوٹ گیا
آپ کی محبت میں اپنے آپ کو اویس قرنی سمجھ رہا ہوں

اگر حب رسول کا یہی معیار تھا تو آپ(ص) کے ساتھ حضرت علی، حضرت عمار، حضرت سلمان، حضرت ابو بکر جیسے قریبی اور ہر مشکل میں ساتھ دینے والے ساتھیوں نے یہ طرز عمل اخر کیوں نہیں اختیار کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ اویس قرنی نامی کوئی شخصیت کا کوئی حقیقی وجود تھا ہی نہیں. دوسری صدی ہجری میں عراقیوں نے اپنے خاص مقاصد کے تحت اس شخصیت کے بت کو تراشا اور اس کا چرچہ کیا. امام مالک نے عراق میں مقیم یمنی الاصل قبیلہ کے لوگوں سے پوچھا بھی کہ اویس قرنی کون تھا تو اس قبیلہ والوں نے کہا کہ ہمارے درمیان ایسا کوئی فرد کبھی نہیں تھا. پروپیگنڈا کا کمال یہ ہے کہ ہمارے ہاں حدیث کی ایک بڑی کتاب میں بھی ان کا نام اور مناقب آ گئے ہیں

اگر کوئی ایسا محب رسول شخص اس وقت یمن میں ہوتا تو اسکو معلوم ہوتا کہ اس وقت مدینہ کی طرف ہجرت کرنا فرض تھا. حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت ابو ہریرہ خود یمنی تھے اور انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اویس نام تو عرب میں اس زمانے میں موجود ہی نہیں تھا. اسی لئے صحابہ کی کسی کتاب میں اویس نامی کوئی شخص موجود ہی نہیں ہے. اویس کے اصل معنی بھیڑیے کے ہیں. اور قرن پھاڑ کو بھی کہتے ہیں. گویا اویس قرنی کا مطلب ہوا پہاڑی بھیڑیا ہے. یہ اہل بابل (عراق) کے ایک دیوتا کا نام ہے. عراقیوں نے اپنے اس دیوتا کو ایک صحابی کا روپ دے کر اسلام میں داخل کر دیا اور اس سے منسوب سنّت گریز واقعات، جیسے دانت توڑ لینا، جماعت کی نماز نہ پڑھنا کو اسلام کے اعلی معیار کے طور پر پیش کیا

یہ تو صرف ایک فرضی شخصیت سے منسوب فرضی کہانیاں ہیں لیکن ہماری تاریخ ایسے بہت سے فرضی واقعات جو اصلی شخصیات سے منسوب ہیں اور جو سنت رسول اور اسلامی عقائد سے براہ راست متصادم ہیں، سے بھری پڑی ہے. ان واقعات نے اسلام کی روح اور عقائد کو مسخ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور غیروں کو اسلام پر طنز کرنے کا بے شمار موقع فراہم کیے ہیں

شہید ششم: شیخ نمر النمر

شیخ نمر کے قتل پر آج کل ملت جعفریہ کا احتجاج زور و شور سے جاری ہے. سنی حکمران کے ہاتھوں ملک میں بدامنی اور بغاوت پھیلانے کے جرم پر قتل کئے جانے پر پوری شیعہ قوم سراپا احتجاج ہے. بہت ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں ان کو شہید سادس (شہید ششم) کا بھی خطاب مل جائے. آج تک پانچ لوگوں کو شیعوں نے یہ سب سے بڑی شہادت کا اعزاز دیا ہے. یہ خطاب صرف ان شخصیات کو دیا گیا ہے جنھوں نے جھوٹ اور مکر سے کام لے کر سنیوں کی صفوں میں گھس کر شیعہ عقائد کی ترویج کا ‘کارنامہ’ سر انجام دیا ہے. یہ شہادت کسی ایک بھی ایسی شخصیت کو نہیں ملی جس نے کسی غیر مسلم کے خلاف کوئی بہادری کے جوہر دیکھائے ہوں. آئیے ان پانچ شیعوں کے نزدیک بڑے شہیدوں کے احوال بیان کرتے ہیں.

شہید اول: محمد جمالدین المکی

یہ نہ ہی اسلام کے پہلے شہید ہیں اور نہ ہی شیعوں کے پہلے شہید ہیں. لیکن ان کو شہید اول کا خطاب اس لئے ملا کیونکہ انھوں نے جھوٹ بولا جس کو شیعہ تقیہ کرنا کہتے ہیں اور اپنے آپ کو سنی ظاہر کر کے فتوے دیے اور شراب کو حلال قرار دیا اور حضرت ابو بکر، حضرت عائشہ، اور حضرت عمر کی شان میں گستاخیاں کیں. سلطان برقوق کے مقدمہ چلا اور ثابت ہونے پر ان کو قتل کر دیا گیا. ان کا ‘کارنامہ’ یہ تھا کے سنیوں کو گمراہ کیا اور خلیفہ المومنین کے خلاف گستاخیاں کیں. اس لئے ان کو شہید اول کا درجہ ملا.

شہید دوم: زین البیدین الجبی

یہ بھی ١٦ ویں صدی کے شہید ہیں. انھوں نے بھی اپنے وقت میں بہترین شیعہ فقہ پڑھا اور شہید اول کی سوانح حیات لکھی. انھوں نے بھی اپنے اپ کو تقیہ کر کے سنی ظاہر کیا اور سنی مدارس میں استاد بھی مقرر ہو گئے. جہاں پر انھوں نے شیعہ عقید کی ترویج اپنے آپ کو سنی ظاہر کر کے شروع کر دی. اس کے سبب ان کو قتل کر دیا گیا. ان کا ‘کارنامہ’ بھی سنیوں کو گمراہ کرنا اور جھوٹ بول کر شیعہ عقید کی ترویج کرنا تھا. جس کے سبب ان کو شہید دوم کا خطاب ملا.

شہید سوم: قاضی نور الله شوستری

یہ بھی ١٦ ویں صدی کے شہید ہیں. یہ ایران میں پیدا ہوۓ اور انڈیا آ کر بس گئے. انھوں نے بھی تقیہ کر کے اپنے آپ کو سنی ظاہر کیا اور قاضی لگ گئے. پہلے دو شہیدوں کے طرح انھوں نے بھی سنی کے بھیس میں شیعہ فقہ کی ترویج شروع کر دی. جہانگیر کے دور حکومت میں ان کی اصلیت آشکار ہو گئی اور ان کے خلاف مقدمہ چلا اور الزام ثابت ہونے پر ان کو سزائے موت دے دی گئی. ن کا ‘کارنامہ’ بھی سنیوں کو گمراہ کرنا اور جھوٹ بول کر شیعہ عقید کی ترویج کرنا تھا. جس کے سبب ان کو شہید سوم کا خطاب ملا.

شہید چہارم: مرزا محمد کامل دہلوی

یہ بھی ہندوستان میں شہید ہوۓ. کہا جاتا ہے کے انھوں نے ایک کتاب نزھۃ اثنا عشريۃ لکھی. یہ کتاب مبینہ طور پر تحفة اثنا عشرية‎ کے جواب میں لکھی گئی تھی جس میں شاہ عبدلعزیز صاحب نے شیعوں کی اصلیت ظاہر کی تھی.  لیکن یہ کتاب  نزھۃ اثنا عشريۃ کہیں ملتی نہیں. الزام لگایا جاتا ہے کے ان کو ہندوستان کی ریاست کے ایک سنی حاکم نے زہر دے کر مار دیا. لیکن نہ ہی کتاب ملتی اور نہ ہی زہر دینے والے کا نام ملتا ہے اور قرین قیاس یہی ہے کے یہ بھی تقیہ کیا گیا ہے یعنی جھوٹ بولا گیا ہے. جب شیعوں سے ایک علمی اور عقلی دلائل پر مبنی کتاب کی نفی نہیں ہو سکی تو الزام لگا دیا کہ جو جواب لکھ رہا تھا اس کو زہر دے دیا گیا.

شہید پنجم: آیت اللہ محمد باقر الصدر

پانچویں شہید آیت اللہ محمد باقر الصدر عراق کے رہنے والے تھے. ١٩٤٥ میں یہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجف چلے گئے اور وہیں سکونت اختیار کی اور ساتھ ساتھ وہاں کی شیعہ برادری میں درس و تدریس سے مشہوری حاصل کی. ١٩٨٠ میں انھوں نے باقر الحکیم کے ساتھ مل کر عراقی حکومت کو گرانے کے لئے ایک تنظیم بنائی. جس کے جرم میں ان کو قید کی سزا ہوئی اور پھر اخر میں سزائے موت دے دی گئی. ان کا بھی ‘کارنامہ’ ایک مسلمان سنی حکومت کے خاتمہ کی کوشش کرنا تھا.

سوچنے کی بات یہ ہے کے شیعوں کے پانچوں بڑے شہید وہ ہیں جن کو سنیوں نے ملک میں بغاوت اور بدامنی پھیلانے کے جرم میں قتل کیا. ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس نے ہنود، یہود یا نصرانیوں کے خلاف کوئی داد شجاعت حاصل کی ہو. تو پھر ہم کس حیثیت سے سوچتے ہیں کے شیعہ سنی بھائی بھائی؟ اور ہمیں لڑانے والے یہودی ہیں؟ کیا یہ پانچ عظیم المرتبت شیعوں کے شہداء یہودیوں یا غیر مسلموں نے بنا کر دیے ہیں؟ ایک شیعہ جو اپنی تاریخ اور شہدا کی تاریخ پڑھتا ہو گا اس کو سب سے بڑا دشمن کون دکھتا ہو گا؟ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو ہندوستان کے لئے پاکستان اتنا بڑا دشمن نہیں جتنا بڑا شیعوں کے لئے (سنی) مسلمان دشمن ہے.

Link: https://en.wikipedia.org/wiki/Five_Martyrs_of_Shia_Islam

شکریہ عمر چیمہ

پچھلے کچھ عرصہ سے داعش کے نام خبروں میں تواتر سے ا رہا ہے اور پاکستان کے حوالہ سے بھی شکوک و شبہات پیش کیے جا رہے ہیں. لیکن مرے لئے برا مسئلہ یہ تھا کے اخر یہ ہے کون اور ان کے ایک دم سے وجود میں انے کی وجہ کیا بنی؟

اگر ہم داعش کے مقبوضہ علاقوں کو دیکھیں تو یہ سارے کے سارے سنی اکثریت کے علاقے ہیں. اور داعش کے مظالم بھی ان ہی علاقوں میں ہوۓ ہیں. ویسے تو داعش کو سنی دہشت گردی کی تحریک کہا جاتا ہے مگر اس کے مظالم اور فتوحات بھی سنی علاقوں میں ہی ہے. پھر اس کے بعد مجھے کچھ یو ٹیوب کی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جن میں بتایا گیا ہے کہ داعش کا انگریزی مخفف ائی ایس ائی ایس اصل میں اسرائیلی سیکرٹ انٹیلی جنس سروس کا مخفف ہے. پھر اس میں مزید معلومات بھی ہے.
https://youtu.be/zd6-XCE8-6M

لیکن میڈیا میں ہمیشہ داعش کو سنی مسلمانوں کی انتہا پسند تنظیم ہی بتایا گیا اور ایسا بتایا گیا جیسے کے عراق میں سنی مظالم کے ردعمل میں یہ وجود میں ائی ہے. لیکن پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کے اگر یہ عراقی شیعہ حکومت کے ردعمل میں ائی ہے تو پھر اس کے سارے مظالم سنیوں کے خلاف کیوں ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ سعودی عرب اور دوسرے ممالک جہاں اس نے کروائی کی ہے وہاں بھی سنی حکومتیں ہیں اور ایران جو شیعہ حکومت کا سب سے بڑا مددگار ہے وہاں اس نے کوئی کروائی نہیں کی.

پھر مزید تحقیق تو کو معلوم ہوا کہ شام میں بھی داعش کی زیادہ مدد اسد حکومت کو گئی کہ جو علاقے اسد حکومت کے ہاتھوں سے نکل کر وہاں کی آزادی پسند تنظیموں کے ہاتھوں میں تھے ان پر داعش نے قبضہ کر لیا.

اگر داعش واقعی میں شیعوں کے خلاف تھی تو اس کو تو وہاں پر موجود سنی تحریکوں کے ساتھ مل کر اسد حکومت کے خاتمہ میں مدد کرنی چاہیے تھی نہ کہ اسد حکومت کے خلاف سنی تحریکوں کے ساتھ لڑ کر ان سنی تحریکوں کو کمزور کرتی

لیکن اب عمر چیمہ کے آرٹیکل کو پڑھ کر داعش کی بارے میں مجھے تصویر کو مکمل کرنے میں مدد ملی. عمر چیمہ نے لکھا کے لاہور سے داعش میں شامل ہونے کے لئے خواتین اور بچے کویٹہ پہنچے اور وہاں سے براستہ ایران انھوں نے داعش میں شامل ہونا تھا.
http://www.thenews.com.pk/print/85370-20-men-women-children-from-Lahore-join-Daesh-go-to-Syria

پہلی بات تو یہ کہ ایران کوئی چھوٹا سا ملک نہیں ہے اور وہاں پر سنیوں کے خلاف زبردست مخاصمت پائی جاتی ہے. تو ایک سنی جو بظاھر ایران کے خلاف لڑنے شام جا رہا ہے (یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اسد کی حکومت ایران ہی چلا رہا ہے اور ایران کی وجہ سے ہی اسد اپنی حکومت کو بچائے ہوۓ ہے) وہ ایران سے ہو کر جائے گا اور اس کے بعد عراق سے گزرے گا جو خود ایران کے زیر تسلط ہے. ایران کے لوگ عراق میں بغیر ویزا کے آ جا رہے ہیں.

اصل میں حقیقت صاف ہو جاتی ہے اگر انسان میڈیا کی خبروں کو دماغ کھول کر سنے. عراق اور شام میں شیعوں کی حکومتیں سنیوں کے خلاف محاذ آرائی کی وجہ سے کمزور ہو چکی تھیں اور ان کے گرنے کا اندیشہ ہی نہیں بلکہ گرنا حتمی ہو چکا تھا تو ایسے موقع پر سنیوں کی توجہ بٹانے کے لئے اور شیعہ کی غیر فعال حکومت کے لئے ہمدردی سمیٹنے کے لئے ایران اور اسکے ہمنواؤں نے ایک تحریک شروع کی داعش کے نام سے اور اب سارا میڈیا اس داعش کی خبریں دینے میں لگا ہوا ہے اور اسد کے مظالم کے لئے کسی کے پاس کوئی وقت نہیں

اور سنی خود بھی الجھن کا شکار ہو گئے ہیں. شام اور عراق میں شیعوں کو مکمل اختیار ہے اور وہاں کا خطہ بھی افغانستان کی طرح بہت زیادہ پہاڑوں اور غاروں سے بھرپور نہیں تو پھر داعش کو جدید اسلحہ اور سازو سامان کہاں سے مل رہا ہے؟ یہ سازو سامان حکومت کی مدد کے بغیر نہیں مل سکتا

 اور یہ بھی یاد رکھیں کے جب جب شام کی آزادی پسند تنظیمیں داعش کے خلاف لڑنے نکلیں تو روس نے ان لوگوں کے خلاف بمباری کی جو کہ  داعش کے خلاف لڑ رہے تھے.

ہم بے حیا قوم ہیں

:ایک شیعہ عالم کی حق بات نے زلزلہ برپا کر دیا ہے
الجزیرہ عربی کے پروگرام” اتجاہ معاکس” کے اینکر پرسن “ڈاکٹر فیصل قاسم” نے کہا ہے کہ :” عراق کے مشہور شیعہ عالم دین اور راہنما مقتدی الصدر کے معاون نے ایک مضمون لکھا ہے جس کا نام ہے “ہم بے حیا قوم ہیں” مضمون میں مندرجہ ذیل حقائق پر روشنی ڈالی ہے

شام،عراق اور فارس کو فتح کرنے والا عمر بن الخطاب (سنی ) تھے۔
سند ،ہند اور ماوراء النہر کو فتح کرنے والا محمد بن قاسم (سنی) تھے۔
شمالی افریقہ کو فتح کرنے والا قتیبہ بن مسلم(سنی) تھے۔
اندلس کو فتح کرنے والا طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر دونوں(سنی ) تھے۔
قسطنطینیہ کو فتح کرنے والا محمد الفاتح( سنی) تھے۔
صقلیہ کو فتح کرنے والا اسد بن الفرات(سنی) تھے۔
اندلس کو مینارہ نور اور تہذیبوں کا مرکز بنانے والی خلافت بنو امیہ کے حکمران (سنی)تھے۔
تاتاریوں کو عین جالوت میں شکست دینے والا سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس دونوں(سنی) تھے۔
صلیبیوں کو حطین میں شکست دینے والے صلاح الدین ایوبی(سنی) تھے۔
مراکش میں ہسپانویوں کا غرور خاک میں ملانے والا عبد الکریم الخطابی (سنی) تھے۔
اٹلی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے عمر المختار (سنی) تھے۔
چیچنیا میں روسی ریچھ کو زخمی کرنے اور گرزنی شہر کو فتح والے خطاب (سنی) تھے۔
افغانستان میں نیٹو کا ناگ زمین سے رگڑنے والے (سنی )تھے۔
عراق سے امریکہ کو بھاگنے پر مجبور کرنے والے ( سنی تھے)۔
فلسطین میں یہودکی نیندیں حرام کرنے والے (سنی) ہیں۔

ہم اپنے بچوں کو کیا بتائیں گے؟؟!!

حسین کو عراق بلا کر کربلاء میں بے یارومدد گار چھوڑنے والے مختار ثقفی (شیعہ) تھے۔
عباسی خلیفہ کے خلاف سازش کر کے تاتاریوں سے ملنے والے ابن علقمی (شیعہ )تھے ۔
ہلاکوخان کا میک اپ کرنے والے نصیر الدین طوسی (شیعہ) تھے۔
تاتاریوں کو بغداد میں خوش آمدید کہنے والے(شیعہ) تھے۔
شام پر تاتاریوں کے حملوں میں مدد کرنے والے(شیعہ) تھے۔
مسلمانوں کے خلاف فرنگیوں کے اتحادی بننے والے فاطمیین( شیعہ) تھے۔
سلجوقی سلطان طغرل بیگ بساسیری سے عہد شکنی کرکے دشمنوں سے ملنے والے(شیعہ) تھے۔
فلسطین پر صلیبیوں کے حملے میں ان کی مدد کرنے والا احمد بن عطاء(شیعہ) تھے۔
صلاح الدین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے والے کنز الدولۃ (شیعہ)تھے۔
شام میں ہلاکوں خان کا استقبال کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی (شیعہ) تھے۔
حاجیوں کو قتل کر کے حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرمطی (شیعہ) تھے۔
شام پر محمد علی کے حملے میں مدد کرنے والے ( شیعہ) تھے۔
یمن میں اسلامی مراکز پر حملے کرنے والے حوثی (شیعہ ) ہیں۔
عراق پر امریکی حملے کو خوش آمدید کر کے ان کی مدد کرنے والے سیستانی اور حکیم (شیعہ) ہیں۔
افغانستان پر نیٹو کے حملے کو خوش آئند کہہ کر ان کی مدد کرنے والے ایرانی حکمران (شیعہ) ہیں۔
شام میں امریکہ کی مدد اور بشار سے مل کر لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر نے والے اور خلافت کی تحریک کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کرنے والے عراقی حکمران،ایرانی حکمران اور لبنان کی حزب اللہ (شیعہ) ہیں۔
خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر کے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والا اسماعیل صفوی (شیعہ) تھے۔
برما کے مسلمانوں کے قتل پر بت پرستوں کی حمایت کا اعلان کرنے والا احمد نجاد( شیعہ ) ہے۔
شام کے لوگوں پر بشاری کی بمباری کی حمایت کرنے والا اور اس کو سرخ لکیر قرار دینے والا خامنئی (شیعہ) ہے۔
صحابہ کو گالیا دینے والے اور خلفائے راشدین اور اور امہات المومنین کے بارے میں شرمناک باتیں لکھنے والے قلم (شیعہ) ہیں۔
سلطان ٹیپو کے خلاف انگریز سے ملنے والے میر جعفر اور میر صادق (شیعہ) تھے۔
اگر سارے واقعات لکھے جائیں تو کئی جلدوں کی کتابیں تیار ہو سکتی ہیں، ہم اپنی نسلوں کو کیا جواب دیں گے ؟؟!!
یہ سب خو دایک شیعہ عالم دین اور حق گو آدمی کہہ رہا ہے !!!

Link: 

پرانا لنک ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے. نیا لنک نیچے دیا گیا ہے ہے

شام میں غیر ملکی دہشت گرد: ایرانی، افغانی اور پاکستانی

سنی دہشت گردوں کی گھر واپسی پر تو بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے لیکن پاکستانی اور افغانی شیعہ دہشت گردوں کے بارے میں بہت کم توجہ دی گئی ہے. اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کے افغانی اور پاکستانی شیعہ دہشت گرد حزب الله کے جھنڈے تلے لڑ رہے ہیں (لیکن مترجم کے نزدیک اس کی زیادہ بڑی وجہ یہ ہے کے پاکستانی میڈیا پر شیعہ کا مکمل کنٹرول ہے اور ایران اور شیعہ کی دہشت گردانہ کاروائیوں پر کوئی لفظ پاکستانی میڈیا میں نہیں انے دیا جاتا. اگر اتا بھی ہے تو ایک برادر ملک یا اس قسم کے اس قسم کے مبہم الفاظ کے ذریعے ڈھانپ دیا جاتا ہے لیکن جہاں پر شیعہ کو مظلوم دیکھانا ہوتا ہے وہاں پر ان کو شیعہ بار بار بیان/لکھا جاتا ہے.

فاطمیوں بریگیڈ، حزب الله کی وہ بریگیڈ ہے جو صرف افغانی شیعہ دہشت گردوں پر مشتمل ہے. اس وقت ایک اندازے کے مطابق ١٠ ہزار سے ٢٠ ہزار تک افغانی شیعہ حزب الله کے جھنڈے تلے لڑ رہے ہیں. اب تک افغان شیعہ دہشت گردوں نے اس کی ایک بھاری قیمت بھی ادا کی ہے. اور تقریباً ٧٠٠ کے قریب افغان شیعہ دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں. ان افغان شیعہ دہشت گردوں کی اصل تعداد معلوم کرنے میں بڑی دشواری یہ ہے کے اکثر اوقات ان کے مرنے پر ان کی لاش کو واپس نہیں حاصل کیا جاتا اور وہیں چھوڑ دیا جاتا ہے.

اگرچہ پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کی اصل تعداد معلوم نہیں کی جا سکتی لیکن ایک بات واضح ہے کے ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے. پہلے جب ان کی تعداد کم تھی تو پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کو دوسرے یونٹس میں ڈال دیا جاتا ہے اب جب کہ ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا ہے تو ان کا اپنا یونٹ زینبیوں بریگیڈ  بنا دیا گیا ہے. (مترجم کے خیال میں اس سے ظاہر ہوتا ہے کے پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کی تعداد بھی ہزاروں میں پہنچ چکی ہے). ابھی تک ٢٠ پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کا جنازہ ہو چکا ہے لیکن پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کے مرنے کی صحیح تعداد اندازہ لگانا نا ممکن ہے. (واضح رہے  بہت سے پاکستانی شیعہ دہشت گردوں کی نماز جنازہ ایران میں بھی ادا کی جاتی رہی ہے )

اس سے یہ بات واضح ہے کے اس وقت شام میں پاکستانی اور افغانی شیعہ دہشت گردوں کی تعداد داعش میں شامل مغربی دہشت گردوں سے بہت زیادہ ہے.

اس میں اہم بات یہ ہے کے ان شیعہ دہشت گردوں کو بھیجنے والا ایران ہے. کیونکہ افغانی اور یہ پاکستانی سخت جان ہوتے ہیں اس لئے ایران ان کو اچھی تنخواوں پر لے کر شام بھیجتا ہے. اور اگر یہ لڑنے سے انکار کرتے ہیں تو ان کو دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں. شام میں لڑنے کے عوض ان کو ایران کی شہریت کی بھی لالچ دی جاتی ہے. ان لوگوں کو لڑنے پر آمادہ کرنے کے لئے شیعہ کے مقدس مقامات کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے.

یہاں پر یہ بات بھی ذہن میں رہے کے ایرانی، شیعہ دہشت گردوں کو پاکستان اور افغانستان کے اندر سے بھی بھرتی کر رہے ہیں اور اس میں صرف وہ لوگ شامل نہیں جو کسی وجہ سے پاکستان اور افغانستان چھوڑ کر ایران بھگ گئے ہیں. ایک جرمن صحافی نے یہ بھی بتایا کے یہ بھرتیاں ایرانی سفارت خانے کے تعاون سے ہو رہی ہیں اور ایرانی سفارت خانہ ان لوگوں کے وزٹ ویزا کا اہتمام کرتا ہے. ہر مہینے سینکڑوں شیعہ دہشت گردوں کو وزٹ ویزا مہیہ کیا جاتا ہے. اس کے علاوہ پاکستان میں اردو ویب سائٹس بھی بنائی گئی ہیں اس قسم کی بھرتیوں کے لئے. مزید تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کے دہشت گردوں کی زیادہ تعداد غیر قانونی ایران میں مقیم پاکستانی اور افغانیوں کی نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان میں رہنے والے شیعہ دہشت گردوں کی ہے. اس کے علاوہ ایرانی، پاکستان اور افغانستان میں حزب الله کی باقاعدہ تنظیم کھولنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے تاکہ وہ ان علاقوں میں اپنے اثر و رسوخ کو پھیلا سکے.

جیسے جیسے شیعہ دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے مستقبل میں پڑنے والے خطرات اور خدشات مزید خطرناک ہوتے جا رہے ہیں. یہ کچھ بعید از قیاس نہیں کے جب یہ شیعہ دہشت گرد واپس اپنے ملکوں میں جایئں گے تو ایرانی دہشت گردی اور ایران کے مذموم مقاصد کو مزید وسعت دیں گے.

شکریہ: انٹرنیشنل انٹرسٹ

Link: http://nationalinterest.org/feature/syrias-other-foreign-fighters-irans-afghan-pakistani-14400

4 Pakistani levies injured in an attack, is my prediction coming true?

Few months ago i wrote a blog that “Is Pakistan next war going to be with Iran?” and many people considered it as a non-sense and as a riyal taking blogger. But today Iran attacked Levies in the balochistan and injured 4 of them. Just imagine if it has been done by India or USA or Saudia then how many tweets and reports and breaking news we have got.

This was an unprovoked attack, i have not heard of Pakistan attacking or shelling in Iran ever and also Pakistan levies are too busy protecting Baluchistan from Indian backed Baloch terrorist to attack any other country. But still none of the main Pakistani channel is reporting this, and we dont get any tweet from ISPR also.

Recently Iranian official said that they want to bring friendly regimes in 15 neighboring countries and i think one of the top neighbor is Pakistan. Which is a clear interference in the other countries internal matters.

As i have been saying it for sometime that Iran, Israel and India is a nexus against Pakistan, and with recent Iran Nuclear Deal, Iran is becoming more and more aggressive. Iran is supporting Yemeni terrorist and supplying them arms.

Iran is trying to create an anarchy in Bahrain

Iran involvement in Syria is clear as a sun on a cloudless day.

Lastly but not leastly Iran is the running the government in Iraq

But the strangest thing is that Iran is attacking on Pakistan borders too. Which is really surprising. Because i personally thought that Iran will ignore Pakistan while its busy with Saudia but these events says that Iran is getting full support from India and other nations who wants to destablize Pakistan and also we have to remember that Iran Mehdi army was fully supporting last year dharna in Islamabad and were ready to pounce on any opportunity to create chaos and anarchy in the capital of Pakistan thus giving an excuse for other powers to control or kill Pakistan nuclear capability.

If there are three nations we need to be wary of as Pakistan then they are Iran, India, Israel. If someone still have doubt then they should read this message from #Khamenei

Lastly, i have said it elsewhere too but i will repeat that sectarian violences has been promoted by the Iranian regime and this is the observation of international media outlets.