پاکستانیوں کا فکری جمود‎

فی زمانہ پاکستانیوں کی فکری جمود کی ایک وجہ جو سمجھ آتی ھے وہ یہ ھے کہ نقل پر مکمل زور ھے اور عقل کو فہم دین کے ماخذات سے بالکل ہی خارج کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی صدیوں میں جب یونانی کتب کے تراجم شروع ہوئے تو معتزلہ ظہور پزیر ہوئے جنہوں نے ہر چیز کو ہی عقل کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کیا چناچہ معجزاتِ انبیاءِ سابقہ بھی بچوں کا کھیل محسوس ہونے لگے مَثلآ عصاۓ حضرت موسیٰ یا بنی اسرائیل کے لیے سمندر کا پھٹنا یا وادی نمل کے قصہ کی معتزلی تفسیر. اس کے ردِعمل میں سوادِاعظم (mainstream) نقل میں غلو کرنے لگا اور جو آیات قرانی اپنے مفہوم میں بلکل واضح بھی تھیں ان کو بھی مابعد طبعی رنگ میں دیکھنے لگے جیسے سوره بقرہ میں حضرت ابراہیم اور چار پرندوں کا قصہ  یا سوره قمر کی پہلی آیت.

دیگر روایات کو قبول کرنے کے لیے بھی تمام پیمانے، جو بالخصوص حنفی فقہاء نے مرتب کیے تھے، بالائے طاق رکھ دیے گئے، نتیجتاً وہ روایتیں جو ابتدائی احناف نے مسترد کر دی تھیں ہمارے حنفی فقہ کی اصل الاصول بن گئیں۔ مثلاً جادو والی  روایت جو ھشام بن عروہ کے دورِاختلاط (Mental Degenration)  میں عراقیوں نے ان کے کان میں پھونکی اور ھشام اس روایت کے لئے بن گئے. امام ابوحنیفہ، امام ابوبکر جصاص، دونوں نے اس روایت کو مسترد کردیا، نہ صرف اس لیے کہ یہ ھشام کے دورِاختلاط کی تھی اور امام ابو حنیفہ جو کہ ہشام کے تلامذہ میں شامل تھے اور اس دور کے عینی شاھد بھی تھے، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ روایت قرآن کی دو سورتوں  (1) بنی اسرائیل اور (2) فرقان سے ٹکرارہی تھی۔ آج امام ابو حنیفہ کا کوئی نام لیوا اس روایت پر سوال اٹھاتا ھے تو اسے معتزلی ھونے کا طعنہ سننا پڑتا ھے.

دوسری روایت حضرت عائشہ کی ٦ سال کی عمر کی ہے. یہ روایت امام زہری (شیعی) کے زرخیز ذہن کی پیداوار ہے. جو ایک اور شیعہ ابو معاویہ ضریر(رافضی) نے ہشام کو اسی  دور اختلاط میں ان کے والد کے حوالے سے سنائی اور ہشام بیچارے اس پر یقین کر کے اس کو اپنے باپ کے حوالے سے روایت کرنے لگے. ہشام سے اس کو روایت کرنے والوں کی اکثریت کوفہ، بصرہ ہی کی ہے. امام زہری حضرت عائشہ کو مضحکہ خیز حد تک کم عمر اس لئے دکھانا چاہتے تھے کہ یہ ثابت کر سکیں کہ حضرت عائشہ نے اپنی زندگی کا سنجیدہ دور نبی کریم کی زیر تربیت نہیں گزارا. اور جنگ جمل میں ان کا کردار اس بات کا غماض ہے.  واضح رہے امام زہری رئیس المدلسین سمجھے جاتے ہیں اور ان کے والد مسلم بن شہاب، شیعہ کمانڈر مختار ثقفی (جس نے مہدودیت اور پھر نبوت کا دعویٰ بھی کیا تھا) کی باغی فوج میں شامل ہو کر اسلامی حکومت کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے. ابتدائی احناف، جو اس پرآشوب دور کے چشم دید گواہ بھی تھے، کے برعکس تیسری صدی کے احناف نے اس روایت کو بھی بڑی خوش دلی سے قبول کر لیا کیونکہ عباسیوں کا دور شروع ہو چکا تھا.

عباسی خلیفہ مامون رشید، جس کی والدہ خراسانی تھیں، نے اپنے دور میں شیعہ اور معتزلیوں کا رشتہِ مفاد قائم کیا. شیعہ جو کہ اب تک روایت سازی کے دھندے کے ساتھ  ہی وابستہ تھے، نے اب اپنے دین کی اساس عقل پر بھی رکھنا شروع کر دی. یعنی وہ لوگ جو اب تک واضح طور پر مشبہ (Anthropomorphic) تھے، معتزلی فکر کو بھی اپنے مخصوص دین کی بنیاد بنانے لگے. چوتھی اور پانچوی صدی میں جب بنو بویہ کی رافضی سرکار تشکیل پائی تو انھوں نے تقیہ کا لبادہ اتارنا شروع کیا اور یعقوب کلینی نے  اصول کافی لکھ کر سواد اعظم سے علیحدگی کی باضابطہ بنیاد رکھ دی. جعفری فقہ ابھی دورِطفولیت میں ہی تھا.شیعوں نے مشبہ کلامی مذہب کو چھوڑ کر معتزلی کلامی مذہب کو قبول کر لیا اور مشبہ مذہب اہل حدیثوں کو تفویض کر دیا.

شیعہ سنی کی باضابطہ طلاق سے پہلے کا بیشتر پروپیگنڈا لٹریچر سنیوں کو دان کر دیا گیا. اور خود اپنے نئے مذہب کی بنیاد معتزلی اصولوں پر رکھی. نتیجتاً معتزلیوں اور رافضیوں کی مفاد پر مبنی اس رشتہ نے رشتہِ ضرورت کی صورت اختیار کر لی.

سواد اعظم جو معتزلیوں سے پہلے ہی الرجک تھا، اس رشتہ کی وجہ سے مزید متنفر ہو گیا. اور اس چیز نے اس کو عقل سے مزید دور اور نقل میں مزید پیوست کر دیا. آج امت کی اگر اصلاح کرنی ہے تو ہمیں مرض کی حقیقت کو پہلے خود سمجھنا ہو گا اور پھر سمجھانا ہو گا. کیونکہ امتِ وسطیٰ ہونے کی حیثیت سے یہ ہماری ذمہ داری ہے. ابتدائی صدیوں کے شیعوں سے غیر ضروری چشم پوشی نے، ان کی دیومالاؤں کو ہمارے دین کی بنیاد بنا دیا ہے اور اسلام کے خلاف ان کا زہریلا پروپیگنڈا آج حدیث اور تاریخ کے خوشنما عنوانات کے ساتھ ہمارے گلوں سے اتارا جا چکا ہے، قرآن جو حقیقی فرقان تھا اور واقعات کو پرکھنے کی کسوٹی تھی، اس کو بالاۓ طاق رکھ دیا گیا ہے.

زمانہ حال کا اردو دان طبقہ فکری طور پر بلکل بانجھ ہو چکا ہے. اور جب زہن میں اٹھنے والے سوالات کے جواب نہیں ملتے تو شدت پسندی پر اتر اتا ہے. تھوڑا عرصہ پہلے تک جو بیماری دیوبندیوں اور اہل حدیثوں تک محدود تھی اب ممتاز قادری کے بعد بریلویوں میں بھی عود کر آئی ہے. آج سنیوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے کئی بچے، جب اپنی ذہنی الجھنوں کے تسلی بخش جوابات نہیں پاتے تو ان میں سے کوئی صحابہ کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کر کے شیعوں کے ظاہری ایجنڈا کو تقویت پہنچاتا ہے، اور کچھ تو نبی پاکﷺ پر ہی سوال اٹھا کر ملحد بن جاتے ہیں جو کہ شیعوں کا حقیقی ایجنڈا ہے. دور جانے کی کیا ضرورت ہے کہ بھینسا اور موچی اور اس قماش کے دوسرے بلاگرز کے ڈانڈے وہیں جا کر ملتے ہیں. اور انکے لئے شدت سے آواز اٹھانے والے نمایاں چہرے بھی اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں. پاکستان کے مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش دیکھنے لئے Let Us Build Pakistan نامی ویب سائٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے.

اس فکری جمود کو توڑنے کا ایک حل یہ ہے کہ ایک بار ابتدائی صدیوں میں ہونے والے واقعات کی حقیقت کو سمجھا جائے. کس طرح واقعات نے ایک دوسرے کو جنم دیا. معتزلیوں کی عقل پرستی میں غلو، ماموں الرشید کے بعد ان کے اور شیعوں کی بڑھنے والی قربت اور بنو بویہ کی حکومت میں ہونے والی خاموش مفاہمت نے مسلمانوں کو کس طرح سے ایک گھن چکر کا شکار کر دیا ہے.

اس تمام تفصیلی بحث کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس سلسلے میں اب سنجیدہ نوعیت کی کوشش کی جائے، بہت سا معتزلی لٹریچر جو کہ ان پر شیعیت کا رنگ چڑھنے سے پہلے کا ہے، ہماری ادراک میں نئی جہت پیدا کر سکتا ہے. اس سے مراد یہ نہیں کہ معتزلی اپنے نظریہ میں صحیح تھے، اکثر و بیشتر وہ صحیح نہیں تھے، مگر ان کی تحریریں پڑھ کر ہماری نئی نسل عقل کو بھی دین کے ماخذات میں سمجھنے پر غور کرنا شروع کر سکتی ہے.

Advertisements