پاکستانی دماغ جدید ترین سپر کمپیوٹر سے بھی تیز

جاوید چوھدری کے آج کے کالم ٤ مئی کا عنوان ہے یہ طارق فاطمی کے ساتھ زیادتی کا ایک اقتباس دیا گیا ہے

طارق فاطمی صبح پانچ بجے اٹھتے ہیں، جاگنگ اور واک کرتے ہیں اور ناشتہ کر کے سات بجے دفتر پہنچ جاتے ہیں، یہ اسٹاف کے انے سے پہلے دنیا کے تمام بڑے نیوز پپرز، پاکستان کے تمام اخبارات، نیوز سمریاں، پاکستانی سفارت خانوں کے پیغامات اور گزشتہ دن کی ساری فائلیں پڑھ لیتے ہیں، یہ دفتر کھلے سے پہلے دنیا کے تمام دارالحکومتوں میں اپنے سفیروں سے ٹیلی فون پر بات بھی کر چکے ہوتے ہیں اور یہ دن بھر کی تمام اہم ترین معلومات بھی یاد کر چکے ہوتے ہیں

٧ بجے سے آفس کھلنے تک انسان کے پاس ٢ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتے. اس میں اگر کسی نے امریکی اخبار پڑھا ہو تو اس کو معلوم ہو کہ وہاں کے ایک اخبار کے تمام ادارتی  مضامین پڑھنے کے لئے یہ وقت بہت کم ہے اور دنیا بھر کے تمام اخبارات کا مطالعہ کرنا ان ٢ گھنٹوں میں انسان کے بس کی بات نہیں، پھر اگر پاکستان کے ١٠ اہم اخباروں کو لیا جائے تو ان کا سرسری جائزہ لینے کے لئے بھی ٢ گھنٹے نا کافی ہیں. اس کے بعد نیوز سمریاں بنانا کوئی آسان کام نہیں، مزید یہ کہ اگر پاکستانی سفارت خانے تندہی سے کام کر رہے ہیں تو روزانہ کے تقریباً  ٢٠٠ پیغامات تو انے چاہیے، ہر سفارت خانے سے اوسط ١ پیغام روزانہ کا، ان ٢٠٠ پیغامات کو پڑھنے کے لئے کم از کم ٢٠٠ منٹ چاہیے جو ٣ گھنٹے سے زیادہ بنتے ہیں

پھر پاکستان کے تمام اہم سفارت خانوں کی تعداد اگر ٣٠ بھی لگائی جائے تو ایک سفارت خانے سے بات چیت کے لئے ٥ منٹ بہت قلیل ہیں لیکن ٥ منٹ ٣٠ سفارت خانوں سے بات چیت کے لئے ٢ گھنٹے اور ٣٠ منٹس چاہیے جس میں کال ملانا اٹھانا اور دوسری کال کے درمیان اگر کوئی وقفہ نہ ہو پھر سوچنے کی بات ہے  کہ نئی دہلی اور چین کے سفارت خانے کو چھوڑ کر یورپ، شمالی امریکا اور مشرق وسطیٰ کا کونسا سفارت خانہ آدھی رات کو کھلا ہوتا ہو گا. پاکستان میں ٧ بجے دبئی، ریاض، پیرس، لندن، برلن، ماسکو ہر جگہ صبح کے ٥ سے پہلے کا وقت ہوتا ہے .

اب آپ خود بتائیں اتنا سب کچھ کیا کوئی سادہ سا کمپیوٹر بھی دو گھنٹے میں کر سکتا ہے؟ تو کیا پاکستانی دماغ کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیز نہ ہوا؟

اب آتے ہیں اپنے دانشور کہانی باز کی طرف کہ انھوں طارق فاطمی صاحب کی بے گناہی کے کالم کا آغاز کس طرح کیا ہے

میری طارق فاطمی صاحب سے صرف ایک ملاقات ہے، وزیر اعظم نواز شریف ١٨ جنوری ٢٠١٦ کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کے لئے ریاض اور تہران کے دورے پر گئے، میں بھی اس وفد میں شامل تھا، روانگی سے قبل چک لالہ ائیرپورٹ کے لاؤنج میں طارق فاطمی صاحب سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے پوچھا ” کیا وزیر اعظم ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے میں کامیاب ہو جائیں گے” طارق فاطمی مسکرائے اور نرم آواز میں بولے “ہاں ہو سکتا ہے لیکن ٦٣٢ سے آج تک کوئی شخص یہ کارنامہ سرانجام نہیں دے سکا” میں نے پوچھا “٦٣٢ سے کیوں؟” بولے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٨ جون ٦٣٢ کو انتقال فرمایا تھا، شیعہ اور سنی کی بنیاد اس دن پڑی، یہ دونوں آج تک اکھٹے نہیں ہو سکے، شاید ہم اس تاریخی کارنامے میں کامیاب ہو جائیں” لاؤنج میں تمام لوگ قہقہ لگانے پر مجبور ہو گئے.

طارق فاطمی صاحب شیعہ ہیں اور ہمارے دانشور صاحب نے لکھنے سے پہلے یہ سوچا نہیں کہ طارق صاحب نے سب سے پہلا الزام تو الله پر لگایا کہ نبی اکرم کو اس وقت بلا لیا جب ابھی کام باقی رہتا تھا اور پوری عمارت کے گرنے کا خدشہ تھا

دوسرا الزام طارق فاطمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  پر لگایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کی صحیح تربیت نہیں کی اور صحابہ یک جان نہیں تھے اور وہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دنیا سے رخصت ہوتے ساتھ ہی فتنہ میں پڑ گئے

تیسرا الزام انھوں نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر پر لگا دیا کہ وہ غاصب تھے اور شیعوں کے بقول خلافت کا جو حق حضرت علی کا تھا اس پر قبضہ کر لیا